Saturday, 15 November 2014


مرزا سلامت علی دبیر 

خاندانی شاعر نہ تھے۔ لڑکپن میں مرثیہ پڑھتے تھے۔ اس شوق نے منبر کی سیڑھی سے مرثیہ گوئی کے عرش کمال پر پہنچا دیا۔ میر مظفر حسین ضمیر کے شاگرد ہوئے اور کچھ استاد سے پایا ۔ اسے بلند اور روشن کر کے دکھایا۔ تمام عمر میں کسی اتفاقی سبب سے کوئی غزل یا شعر کہا ہو ، ورنہ مرثیہ گوئی کے فن کو لیا اور اس درجے تک پہنچا دیا ‘ جس کے آگے ترقی کا راستہ بند ہو گیا ۔ ابتدا سے اس شغل کو زاد آخرت کا سامان سمجھا اور نیک نیتی سے اس کا ثمرہ لیا۔ طبیعت بھی ایسی گداز پائی تھی جو کہ اس فن کے لیے نہایت موزوں اور مناسب تھی ۔ ان کی سلامت روی ، پرہیز گاری ،مسافر نوازی اور سخاوت نے صفت کمال کو زیادہ تر رونق دی تھی۔ 
شاگرد انِ الٰہی کی طبیعت بھی جذبہ الٰہی کا شوق رکھتی ہے۔ بچپن سے دل چونچال تھا۔ ابتدائے مشق میں کسی لفظ پر استاد کی اصلاح پسند نہ آئی ۔ شیخ ناسخ زندہ تھے‘ مگر بوڑھے ہو گئے تھے۔ ان کے پاس چلے گئے ۔ وہ اس وقت گھر کے صحن میں مونڈھے بچھائے جلسہ جمائے بیٹھے تھے۔ انہوں نے عرض کی کہ حضرت اس شعر میں مَیں نے تو یہ کہا ہے اور استاد نے یہ اصلاح دی ہے۔ انہوں نے فرمایا کہ استاد نے ٹھیک اصلاح دی ہے۔ انہوں نے پھر کہا کہ کتابوں میں تو اس طرح آیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نہیں‘جو تمہارے استاد نے بتایا ہے ‘ وہی درست ہے۔ انہوں نے پھر عرض کی کہ حضرت آپ کتاب کو ملاحظہ تو فرمائیں ۔ شیخ صاحب نے جھنجلا کر کہا ، ارے تو کتاب کو کیا جانے ؟ ہمارے سامنے کتاب کا نام لیتا ہے؟ ہم کتابیں دیکھتے دیکھتے خود کتاب بن گئے ہیں۔ ایسے غصے ہوئے کہ لکڑی سامنے رکھی تھی ‘ وہ لے کر اٹھے یہ بھاگے ،انہیں بھی ایسا جوش تھا کہ دروازے تک ان کا تعاقب کیا۔ 
لکھأو کے لڑانے اور چمکانے والے غضب تھے۔ آخر مرزا کا عالم شباب تھا اور کمال بھی عین شباب پر تھا کہ جوانی کا بڑھاپے سے معرکہ ہوا۔ نواب شرف الدولہ میر ضمیر کے بڑے قدر دان تھے۔ ان سے ہزاروں روپے کے سلوک کرتے تھے۔ ابتدا میں ان کے سبب سے اور پھر مرزا کے جو ہر کمال کے باعث سے ان کی بھی قدردانی کر تے تھے۔ ان کی مجلس میں اول مرزا بعد ان کے میر ضمیر پڑھا کرتے تھے۔ ایک موقع پر مرزا نے ایک مرثیہ لکھا‘ جس کا مطلع ہے۔ 
دست خدا کا قوت بازو حسین ہے
میر ضمیر کے سامنے جب اصلاح کے لیے پیش کیا تو انہیں اس کے نئے خیالات اور طرز بیان اور ترتیب مضامین پسند آئی۔ اسے توجہ سے بنایا اور اسی اثنا میں نواب کے ہاں ایک مجلس ہونے والی تھی۔ رشید شاگرد سے کہا کہ بھئی! اس مرثیے کو اس مجلس میں ہم پڑھیں گے ؟ یہ تسلیم کر کے تسلیم بجا لائے اور مرثیہ انہی کو دے دیا۔ 
گھر میں آئے تو بعض احباب سے حال بیان کیا۔ مسودہ پاس تھا ‘ وہ بھی سنایا کچھ تو یاروں کا چمکانا ‘ کچھ اس سبب سے کہ ذوق شوق کے پھول ہمیشہ شبنم تعریف کے پیاسے ہیں اور نواب کو خبر پہنچ گئی تھی ۔ ادھر کے اشاروں میں انعام کی ہوا آئی۔ غرض انجام یہ ہوا کہ استاد مرثیہ صاف کر کے لے گئے کہ وہی پڑھیں گے ۔
بمو جب معمول کے اول مرزا صاحب منبر پر گئے اور وہی مرثیہ پڑھا۔ بڑی تعریفیں ہوئیں اور مرثیہ خوب سر سبز ہوا۔ استاد کہ ہمیشہ شاگرد کے پڑھنے پر باغ باغ ہو ا کرتے تھے اور تعریفیں کر کے دل بڑھاتے تھے ‘ اب خاموش بیٹھے ہیں۔ کچھ غصہ ‘ کچھ بے وفائی زمانہ کا خیال کچھ اپنی محنتوں کا افسوس اور فکریہ کہ اب میں پڑھوں گا تو کیا پڑھوں گا اور اس سے بڑھ کر کیا پڑھوں گا جس میں استادی کا رتبہ بڑھے نہیں تو اپنے درجے سے گرے بھی تو نہیں۔ غرض ان کے بعد یہ بڑھے اور شاگرد کو نقطہ مقابل کر کے بجائے خود استاد بنادیا اور وہی صورت ہو گئی کہ ایک مجلس میں دونوں کا اجتماع موقوف ہو گیا ۔ زمانے نے اپنے قاعدے کے بموجب چند روز مقابلو ں سے شاگرد کا دل بڑھایا اور آخر بڑھاپے کی سفارش سے استاد کو آرام کی اجازت دی ۔ وہ اپنے حریف میر خلیق کے سامنے گوشہ عزلت کا مقابلہ کرنے لگے اور یہاں میر انیس اور مرزا دبیر کے معرکے گرم ہو گئے۔ دونوں کے کمال نے سخن شناسوں کے ہجوم کو دو حصوں میں بانٹ لیا۔ آدھے انیسیے ہوگئے۔ آدھے دبیریے۔ ان کے کلام میں محاکمہ کرنے کا لطف جب ہے کہ ہر استاد کے ۴۔۴‘۵۔۵‘ مرثیے بجائے خود پڑھو اور پھر مجلسوں میں سن کر دیکھو کہ ہر ایک کا کلام اہل مجلس پر کس قدر کامیاب اور ناکام رہا۔ بے اس کے مزہ نہیں۔ میں اس نکتے پر میر انیس کے حال میں کاوش کرو ں گا،مگر اتنا یہاں بھی کہتا ہوں کہ میر انیس صاحب کلام ‘ لطف زبان ‘ چاشنی محاورہ ‘خوبی بندش ‘ احسن اسلوب مناسب مقام ‘طرز ادا اور سلسلے کی ترتیب میں جواب نہیں رکھتے اور یہی رعایتیں ان کی کم گوئی کا سبب تھیں ۔ مرزا دبیر صاحب شوکت الفاظ ‘مضامین کی آمد ‘ اس میں جا بجا غم انگیز اشارے در دخیز اعتراض حریفوں کا درست ہے کہ بعض ضعیف روایتیں اور دلخراش مضامین ایسے نظم ہو گئے ہیں ‘ جو مناسب نہ تھے لیکن انسان کی طبیعت ایسی واقع ہوئی ہے کہ جب ایک مقصود کو مدنظر رکھ کر اس پر متوجہ ہوتا ہے تو اور پہلوؤں کا خیال بہت کم رہتا ہے۔ نہیں ایسی مجلسوں میں پڑھنا ہوتا تھا‘ جہاں ہزار آدمی دوست دشمن جمع ہوتا تھا۔ تعریف کی بنیاد گریہ و بکا اور لطف سخن اور ایجاد مضامین پر ہوتی تھی۔ کمال یہ تھا کہ سب کو رلانا اور سب کے منہ سے تحسین کا نکالنا ۔ اس شوق کے جذبے اور فکر ایجاد کی محویت میں جو قلم سے نکل جائے تعجب نہیں۔ نکتہ چینی ایک چھوٹی سی بات ہے ‘ جہاں چاہا ‘ دو حرف لکھ دیے۔ جب انسان تمام عمر اس میں کھپا دے تب معلوم ہوتا ہے کہ کتنا کہا اور کیسا کہا۔ ایجاد و اختر اع کے لفظ پر ایک لطیفہ یا د آیا کہ اصولِ فن سے متعلق ہے ‘ اہل ذوق کے ملاحظہ کے لیے لکھتا ہوں۔
آتشی لطیفہ 
مرزا دبیر کی جوانی تھی اور شاعری بھی عین جوانی پر تھی کہ ایک دھوم دھام کا مرثیہ لکھا۔ اس کانمودار تمہید سے چہر ہ باندھا۔ رزمیہ وبزمیہ مضامین پر خوب زور طبع دکھایا۔ تازہ ایجاد یہ کیا کہ لشکر شام سے ایک بہادر پہلوان تیار کر کے میدان میں لائے اس کی ہیبت ناک مورت بدمہورت ‘ آمد کی آن بان ‘ اس کے اسلحہ جنگ ‘ ان کے خلاف قیاس مقادیر و وزن سے طوفان باندھے ‘پہلے اس سے کہ یہ مرثیہ پڑھا جائے ‘ شہر میں شہرہ ہو گیا۔ ایک مجلس قرار پائی۔ اس میں علاوہ معمولی سامعین کے سخن فہم اور اہل کمال اشخاص کو خاص طور پر بھی اطلاع دی گئی۔ روز معہود پر ہجوم خاص و عام ہوا۔ طلب کی تحریکیں اس اسلوب سے ہوئی تھیں۔ خواجہ آتش باوجود پیری و آزادی کے تشریف لائے مرثیہ شروع ہوا۔ سب لوگ بمو جب عادت کے تعریفوں کے غل مچاتے رہے‘ گریہ و بکا بھی خوب ہوا ۔ خواجہ صاحب خاموش سر جھکائے دو زانو بیٹھے جھومتے رہے۔ مرزا صاحب مرثیہ پڑھ کر منبر سے اترے ۔ جب دلوں کے جوش دھیمے ہوئے تو خواجہ صاحب کے پاس جا بیٹھے اور کہا کہ حضرت ! جو کچھ میں نے عرض کیا ‘ آپ نے سنا؟ فرمایا ہوں بھئی ! سنا۔ انہیں اتنی بات پر قناعت کب تھی؟ پھر کہا ‘ آپ کے سامنے پڑھنا گستاخی ہے لیکن آپ نے ملاخظہ فرمایا ؟ انہوں نے فرمایا ‘بھئی ! سنا تو سہی ‘ مگر میں سوچتا ہوں کہ یہ مرثیہ تھا یالندھور بن سعدان کی داستان تھی ‘ (واہ رے استاد کامل ! اتنے سے فقرے میں عمر بھر کے لیے اصلاح دے گیا مرزا صاحب نے ۲۹محرم ۱۲۹۲ھ کو ۷۲ سال کی عمر میں انتقال کیا۔ اس مدت میں کم سے کم ۳ ہزار مرثیے لکھے ہوں ۔ سلاموں اور نوحوں اور رباعیوں کا کچھ شمار نہیں۔ ایک مرثیہ بے نقط لکھا ‘ جس کا مطلع ہے۔ 
ہم طالع ہما مراد ہم رسا ہو ا
اس میں اپنا تخلص بجائے دبیر کے عطا ر لکھا ہے اور کچھ شک نہیں کہ ان کے ساتھ ہندوستا ن میں مرثیہ گوئی کا خاتمہ ہو گیا ۔ نہ اب ویسا زمانہ آئے گا ،نہ ویسے صاحب کمال پیدا ہوں گے۔


مرکزی خیال ۔پطرس بخاری (شخصیت نگاری) ۔۔۔۔۔۔۔تحریر فارغ بخاری 

صحیح بخاری کے عنوان سے پطرس بخاری کا خاکہ”البم “ کا تیسرا خاکہ ہے۔ جسے ہم توصیفی خاکہ کہہ سکتے ہیں۔پطرس باغ و بہار شخصیت کے مالک تھے۔ اور اُن کی شخصیت کے اسی پہلو کو پیش نظر رکھتے ہوئے اس خاکہ کا اسلوب شوخ اور مزاح کی چاشنی ليے ہوئے ہے۔ پطرس کو اپنے عہد میں بھی خوب پذیرائی ملی اور آج بھی انہیں چاہا جاتا ہے۔ یہ اعزاز بہت کم فنکاروں کو اُن کی زندگی میں ملتا ہے۔ فارغ بخاری اس حقیقت کی نشاندہی کچھ ایسے دلچسپ پیرائے میں بیان کرتے ہیں،
” مرنے کے بعد توخیراس کی تعریف و توصیف ہونی ہی تھی ۔ ستم تو یہ ہے کہ زندگی میں بھی ا س بھلے آدمی کے خلاف کسی کو زبان کھولنے کی توفیق نہ ہوئی۔ اور ہر شخص اس کے حق میں”نقوش “‘ کا پطرس نمبر ثابت ہوا۔“
اس خاکے میں پطرس کی شخصیت سے فارغ بخاری کو زیادہ واقفیت نہیں اور وہ سنی سنائی باتوں کو موضوع بناتے ہیں ۔ پطرس کی شخصیت کے بجائے اُن کی فنی عظمت پر زیادہ بات کی گئی ہے۔ اس طرح یہ خاکہ ایک تنقیدی مضمون معلوم ہوتا ہے۔


فارغ بخاری


11 نومبر 1917ء اردو کے ممتاز شاعر، ادیب اور نقاد فارغ بخاری کی تاریخ پیدائش ہے۔
فارغ بخاری کا اصل نام سید میر احمد شاہ تھا اور وہ پشاور میں پیدا ہوئے تھے۔ابتدا ہی سے ادب کے ترقی پسند تحریک سے وابستہ رہے اور اس سلسلے میں انہوں نے قید و بند کی صعوبتیں بھی برداشت کی انہوں نے رضا ہمدانی کے ہمراہ پشتو زبان و ادب اور ثقافت کے فروغ کے لئے بیش بہا کام کیا۔ ان کی مشترکہ تصانیف میں ادبیات سرحد، پشتو لوک گیت، سرحد کے لوک گیت، پشتو شاعری اور پشتو نثر شامل ہیں۔ ان کے شعری مجموعوں میں زیرو بم، شیشے کے پیراہن، خوشبو کا سفر، پیاسے ہاتھ، آئینے صدائوں کے اور غزلیہ کے نام سرفہرست تھے۔ ان کی نثری کتب میں شخصی خاکوں کے دو مجموعے البم، مشرقی پاکستان کا رپورتاژ، برات عاشقاں اور خان عبدالغفار خان کی سوانح عمری باچا خان شامل ہیں۔
فارغ بخاری کا انتقال 13 اپریل 1997ء کو پشاورمیں ہوا اور وہ پشاور ہی میں آسودۂ خاک ہوئے۔


احمد شاہ پطرس بخاریایک تعارف


سیّد احمد شاہ بخاری خالص مزاح کے علم بردار قلمکار ہیں۔آپ نے اس مشکل ترین صنفِ ادب میں خامہ فرسائی کی اور قارئین سے زبردست دادِ تحسین وصول کی۔ آپ نے اپنے مضامین میں مزاح نگاری کونہایت خوبصورت انداز میں استعمال کیا ۔آپ کی ذہانت کی عکاس آپ کی وہ تحریریں ہیں جن میں واقفیت، حسنِ تعمیر، علمی ظرافت، زیرِ لب تبسم، شوخی، طنز اور مزاح کا بھرپور عکس نظر آتا ہے۔ پطرس کے زورِ قلم کا کُل اثاثہ ۵۵۱ صفحات کا کتابچہ المعروف بہ مضامینِ پطرس ہے۔ ان چند مضامین نے اردو ادب کی صنفِ مزاح میں ایک انقلاب برپا کر دیا اور پطرس اس حلقے میں سب سے ممتاز ہو گئے۔ اُن کے قلم کی تخلیق دائمی شہرت اور عظمت کا سبب بنی اور انہوں نے اپنے ہم عصر مزاح نگاروں کے درمیان ایک نمایاں مقام حاصل کر لیا۔
بقول آل احمد سرور:

پطرس نے بہت تھوڑے مضامین لکھے، مگر پھر بھی ہماری چوٹی کے مزاح نگاروں میں شمار ہوتے ہیں۔ اتنا تھوڑا سرمایہ لے کر بقائے دوام کے دربار میں بہت کم لوگ داخل ہوئے ہیں۔

طرزِ تحریر کی خصوصیات

پطرس کے طرزِ تحریر کی خصوصیات درج ذیل ہیں۔

(۱) اسلوب کی شگفتگی
پطرس بخاری زبان و بیان کی سادگی سے کام لیتے ہوئے الفاظوں سے اس طرح کھیلتے ہیں کہ ان کو دل سے داد دینے کو جی چاہتا ہے۔ سادگی، صفائی، روانی ، محاورات کے برجستہ استعمال اور شگفتگی کی بدولت اُن کے مضامین میں ایک کشش ہے۔ آپ کی تحریروں کے مطالعے کے بعد ایسا لگتا ہے گویا اپنے کسی دوست سے نہایت بے تکلفانہ انداز میں ہمکلام ہیں۔
وہ اپنی کتاب مضامینِ پطرس کے دیباچہ میں رقم طراز ہیں:

اگر یہ کتاب آپ کو کسی نے مفت میں بھیجی ہے تو مجھ پر احسان کیا ہے۔ اگر آپ نے کہیں سے چُرائی ہے تو میں آپ کے ذوق کی داد دیتا ہوں۔ اپنے پیسوں سے خریدی ہے تو مجھے آپ سے ہمدردی ہے۔ اب بہتر یہ ہے کہ اس کو اچھا سمجھ کر اپنی حماقت کو حق بجانب ثابت کریں۔

(۲) ظرافت کی خصلت
پطرس کے مضامین میں جو مزاح نظر آتا ہے وہ خالصتاً مزاح ہے۔ اس میں بدتمیزی، طنز، تمسخر اور عامیانہ پن جیسی اصناف سے زبردستی ہنسانے کی کوشش نہیں کی گئی۔ آپ کی نگارش میں مزاح وشوخی کی آفاقی خصلت ہے جو ہر موڑ پر نظر آتی ہے۔ آپ نے شرارت کے سلیقے کو برقرار رکھتے ہوئے ظرافت کے میدان کو وسیع و غیرمحدود کر دیا ہے۔
مثال کے طور پر وہ ہاسٹل میں پڑھنا میں لکھتے ہیں:

اب قاعدے کی رو سے ہمیں بی۔اے کا سرٹیفکیٹ مل جانا چاہیے تھا۔ لیکن یونیورسٹی کی اس طِفلانہ ضد کا کیا علاج کہ تینوں مضمونوں میں بیک وقت پاس ہونا ضروری ہے۔

(۳) واقعہ نگاری
واقعہ نگاری پطرس کے نگارش کی ایک نمایاں خصوصیت ہے۔ وہ لفظوں کے انتخاب اور فقروں کی ترتیب کا حسن استعمال کرتے ہوئے مضحکہ خیز واقعات کی تصویرکشی ایسی مہارت اور خوبصورتی سے کرتے ہیں کہ چشم تصور اُن کو ہو بہو اپنے سامنے محسوس کرتی ہے۔
مثال کے طورپر ”مرحوم کی یاد میں“ کے اس اقتباس میں وہحُسنِ انتخاب سے ایک مزاح آمیز ماحول پیدا کرتے ہیں:

تمام بوجھ دونوں ہاتھوں پر تھا جو ہینڈل پر رکھے تھے اور برابر جھٹکے کھا رہے تھے۔ اب میری حالت تصور میں لائیں تو معلوم ہوگا جیسے کوئی عورت آٹاگوندھ رہی ہے۔

(۴) عکاسِِ زندگانی
مصنف نے معاشرے اور روزمرّہ زندگی کا بھرپورتجزیہ کیا ہے اور اِس جائزے سے انسانی زندگی کے نازک ، لطیف اور نرم و ملائم پہلوﺅں پر قلم اُٹھایا ہے۔ آپ کی تحریروں میں پیش کئے گئے کرداروںاور واقعات کا تعلق کسی خاص معاشرے سے نہیں ، بلکہ آپ نے تمام تہذیبوں میں پائی جانے والی یکساں صفات کی عکاسی کی ہے۔ اسی لئے پطرس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ:

پطرس نے اپنی ظرافت کا مواد زندوں سے لیا ہے۔

ہاسٹل میں پڑھنا دنیا کے تمام طالب علموں کی عمومیت اور ہمہ گیری کی بہترین ترجمانی کرتا ہے۔

(۵) تحریف (Parody)
احمد شاہ پطرس بخاری نے اپنی تحریروں میں تحریف نگاری کو نہایت مہارت سے پروکر ایک انوکھی خوبصورتی پیدا کر دی ہے۔ آپ نے اس مشکل فن سے شوخ اور ظریف رنگ پیدا کیا اور قارئین کے لئے ہنسنے کے دلکش مواقع پیدا کئے ہیں۔
مثال کے طور ایک مصنف نے لکھا ہے:

بچہ انگوٹھا چوس رہا ہے اور باپ اُسے دیکھ دیکھ کر خوش ہو رہا ہے۔

پطرس اس کو یوں بیان کرتے ہیں:

باپ انگوٹھا چوس رہا ہے، بچہ حسبِ معمول آنکھیں کھولے پڑا ہے۔

بعض مواقعات پر آپ نے یہ کمال اشعار سے بھی ظاہر کیا ہے۔ وہ غالب کے شعر کی تحریف کچھ اس طرح کرتے ہیں کہوں کس سے میں کہ کیا ہے سگ رہ بری بلا ہے

مجھے کیا برا تھا مرنا اگر ایک بار ہوتا
اصل شعر کچھ اس طرح سے ہے
کہوں کس سے میں کہ کیا ہے شبِ غم بری بلا ہے
مجھے کیا برا تھا مرنا اگر ایک بار ہوتا

(۶) مغربی ثقافت کا رنگ
احمد شاہ بخاری چونکہ بین الاقوامی کانفرنسوں میں پاکستان کی نمائندگی کرتے رہے ہیں اس لئے اُن کا مغربی ادب کا بھرپور مطالعہ تھا۔ انہوں نے مغربی مزاح نگاری کا گہرا تجزیہ کیا اور اُس کی تمام تر خوبصورتی اور لطافتوںکو سمیٹ کر مشرقی رنگ میں ڈھالا۔ آپ کے مضامین میں جو ثقافتِ مغرب کا رنگ نظر آتا ہے وہ قاری کو ذرا بھی گراں نہیں گزرتا اور نہ کسی تحریر کا ترجمہ معلوم ہوتا ہے۔
بقول پروفیسر تمکین:

پطرس نے انگریزی ادب کی روح کو ہندوستانی وجود دے کر اپنی نگارش میں ایک خاص لطف و نکھار اور رکھ رکھاﺅ پیدا کر دیا ہے جو اپنی وضع کی ایک ہی چیز ہے۔

(۷) کردار نگاری
پطرس کے طرزِ تحریر میں ایک اور خوبی پائی جاتی ہے کہ وہ کرداروں کے ذریعے ایک لطف اندوز ماحول پیدا کرتے ہیں۔ انسانی فکروشعورکے تمام پہلوﺅں پر مکمل عبور رکھتے ہوئے آپ اس طرح اپنے مضمون کو جملہ بہ جملہ تخلیق کرتے ہیں کہ مطالعہ کرنے والاشخص ایک مزاح آمیز ماحول میں گم ہو جاتا ہے اور بے اختیار مسکرا دیتا ہے۔

مرید پور کا پیر میں پیر کا کردار، ہاسٹل میں پڑھنا میں طالب علم کا کردار ، یہاں تک کہ کتّے میں کتوں کا کردار اس کی بہترین مثالیں ہیں۔

(۸) اِختصاروجامعیت
پطرس کے مختلف مضامین ایک کامل اور ماہر ادیب کے فنون کی عکاسی کرتے ہیں۔ آپ اپنی بات کہنے پرمکمل عبور رکھتے ہیں او ر بڑے سے بڑے موضوع کو نہایت مختصر ،جامع ور دل نشین انداز میں رقم کر دیتے ہیں۔ آپ کا حسنِ انتخاب ہی وہ وجہ ہے جس کی بدولت آپ کا سرمایہ ادب لافانی بن گیا۔مثال کے طور پر ”ہاسٹل میں پڑھنا“ میں انہوںنے ایک جملے سے کیا بات کہہ ڈالی:

ہم پہ تو جو ظلم ہوا سو ہوا، یونیورسٹی والوں کی حماقت ملاحظہ فرمائیے، کہ ہمیں پاس کر کے اپنی آمدنی کا ایک مستقل ذریعہ ہاتھ سے گنوا بیٹھے۔

ناقدین کی آرائ

مختلف نقاد پطرس کی عظمت کا اعتراف کرتے ہیں اور اپنے اپنے انداز میں پطرس کی تعریف بیان کرتے نظر آتے ہیں۔ حکیم
یوسف حسن پطرس کے بارے میںکہتے ہیں:

اگر میں یہ کہ دوں تو بے جا نہ ہوگا کہ ہند وپاکستان کے تمام مزاحیہ کتابوں کو ترازو کے ایک پلڑے میں ڈالا جائے اور پطرس کے مضامین دوسرے پلڑے میں رکھے جائیں تو پطرس کے مضامین بھاری رہیں گے۔

غلام مصطفی تبسم لکھتے ہیں:

بخاری کی نظر بڑی وسیع اور گہری ہے اور پھر اُسے بیان پر قدرت حاصل ہے۔یہی وجہ ہے کہ اُس کا مزاح پڑھنے والوںکی دل میں شگفتگی پیدا کر دیتا ہے۔

ڈاکٹر خورشید السلام کا بیان ہے کہ:

اُن کے اندازِ فکر اور طرزِ بیان میں انگریزی ادب کا اثر موجود ہے اور اندازِبیان میں تخیّل کا عمل فرحت اللہ بیگ سے زیادہ قریب ہے۔

حاصلِ تحریر

اردو ادب کے گلشنِ مزاح میں پطرس نے جو پھول کھلائے ہیں اُن کی خوشبو آج تک علم دوست لوگوں کے اذہان کو مہکا رہی ہے۔آپ نے چند مضامین میں مزاح نگاری کے جوجوہر دکھائے وہ دادِ تحسین کا باعث بنے اور آپ کو شہرت کی معراج تک لے گئے۔ آپ کا ہر مضمون قابلِ قدر ہے اور مزاح نگاری کی نئی نئی جہتوں سے روشناس کراتے ہوئے مسکراہٹوں کے مواقع پیدا کرتا ہے۔ احمد شاہ پطرس بخاری اس شعبہ ادب میں ہمیشہ ممتاز رہیں گے اور اُن کا نام تاقیامت زندہ رہے گا۔



جوش ملیح آبادیتعارف


عام طور پر جوش ملیح آبادی شاعرِ انقلاب مشہور ہیں جیسا کہ وہ خود اعلان کرتے ہیں کہ

کام ہے میرا تغیر، نام ہے میرا شباب
میرا نعرہ انقلاب و انقلاب و انقلاب

مگر صحیح یہ ہے کہ شاعرِ بغاوت ہیں۔ انقلاب کا مطلب ایک نظام کو بدل کر دوسرا نظام لانے کی کوشش کرنا ہوتا ہے، جب کہ بغاوت صرف ایک نظام کو توڑ پھوڑ ڈالنے کا نام ہے۔ جوش کی شاعری میں کسی نئے نظام کا پیغام نہیں البتہ اس میں کئی طرح کی بغاوتیں ضرور پورے طمطراق کے ساتھ پائی جاتی ہیں۔

خصوصیاتِ شاعری

شاعرانہ صلاحیت
پہلی خصوصیت ان کی فطری اور موروثی شاعرانہ صلاحیت ہے۔ وہ ایسے خاندان سے تعلق رکھتے ہیں جس میں کئی پشتوں سے شعر گوئی کاس چرچا تھا۔ اور یہ شاعرانہ صلاحیت جوش کو گویا وراثت میں ملی تھی۔

اسلوبِ بیان کی روانی
ان کی شاعری میں بے پناہ روانی اور سلاست ہے۔ الفاظ کا ایک دریا سا امنڈتا اور شور مچاتا ان کی ہر نظم میں آتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ ان کا ذخیرہ الفاظ اتنا وسیع ہے کہ پوری اردو شاعری مین غالباً نظر اکبر آبادی اور انیس لکھنوی کے سوا کوئی شاعر اس معاملے میں جوش کی ٹکر کا نہیں ہے۔ مثلاً

برچھیاں، بھالے، کمانیں، تیر، تلواریں، کٹار
بیرقیں، پرچم، علم، گھوڑے قطار اندر قطار

علمِ بیان کا استعمال
جوش کی نظموں میں نئی نئی اور پے درپے تشبیہوں اور استعاروں کا ایسا برجستہ اور بے ساختہ استعمال ہے کہ پڑھنے والا ان کے الفاظ کی گھن گرج کے علاوہ ان تشبیہوں اور استعاروں کے طلسم مےں گرفتار ہوکر رہ جاتا ہے۔ مثال کے طور پر

بھوکوں کی نظر میں بجلی ہے، توپوں کے دہانے ٹھنڈے ہیں
تقدیر کے لب کو جنبش ہے دم توڑ رہی ہیں تدبیریں

وزن و قافیہ کی پابندی
جوش اور جاہے کتنی ہی بغاوتیں کریں ان کا ہر شعر شاعری کے تمام اصولوں کے مطابق ہوتا ہے اور اردو شاعری میں رائج ہیں۔ اسی لئے وہ الفاظ کی کثرت و قدرت اور وزن قافیہ کی پابندی کے ذریعے قاری یا سامع کے ذہن پر چھا جاتے ہیں اور پورے زور اور وضاحت سے اپنے دل کی بات کہہ دیتے ہیں۔ عکسِ کلام درج ذیل ہے

کیا ہند کا زنداں کانپ رہا ہے، گونج رہی ہیں تکبیریں
اکتائے ہوئے ہیں شاید کچھ قیدی اور توڑ رہے ہیں زنجیریں

نرم عاشقانہ شاعری
بغاوت کی دھوم دھام اور آگ، بجلی، موت آندھی، جیسے الفاظ کے علاوہ جوش نے عشقیہ واردات بھی بڑی خوبی اور لطافت سے بیان کی ہیں۔ اس قسم کے کلام میں بھی بے پناہ روانی پائی جاتی ہے۔ مثلاً

سر پہ ترے رہیں سدا پھولوں کے تاج فصل گل
روح کو مست کردیا تیری ہوائے مست نے
جاکے، نسیم جاں ستاں، کہنا یہ بزم حسن میں
بھیجا ہے نغمہ و سلام جوش سحر پر مست نے

کل چونک کر اس نے، بقاضائے خمار
انگڑائی جو لی، ٹوٹ گیا رات کا ہار
اور سرخ ہتھیلیوں سے آنکھیں جو ملیں
ڈوروں سے ابل بڑی دو دھاری تلوار

منظر نگاری
مختلف مناظر فطرت کو بھی جوش نے بڑی مہارت، خوبصورتی اور روانی سے بیان کیا ہے۔ مثلاً صبح کا منظر دیکھئے

نظر جھکائے عروس فطرت جبیں سے زلفیں ہٹارہی ہے
سحر کا تارا ہے زلزلے میں، افق کی لو تھرتھرا رہی ہے
طیور، بزم سحر کے مطرب، لچکتی شاخوں پہ گا رہے ہیں
نسیم فردوس کی سہیلی گلوں کو جھولا جھلا رہی ہے
شلو کا پہنے ہوئے گلابی، گلاب کی پنکھڑی چمن میں
رنگی ہوئی سرخ اوڑھنی کا ہوا میں پلو سکھا رہی ہے
اسی طرح دیہات کے ایک بازار میں دوپہر کا منظر اس طرح دکھاتے ہیں
دوپہر، بازار کا دن، گاوں کی خلقت کا شور
خون کی پیاسی شعاعیں، روح فرسا لو کا زور

آگ کی رو، کاروبار زندگی کا پیچ و تاب
تند شعلے، سرخ ذرے، گرم جھونکے، آفتاب

شور، ہلچل، غلغلہ، ہیجان، لو، گرمی، غبار
بیل، گھوڑے، بکریاں، بھیڑیں قطار اندر قطار

مکھیوں کی بھنبھناہٹ، گڑ کی بو، مرچوں دھانس
خربوزے، آلو، کھلی، گیہوں، کدو، تربوز، گھانس

مضطرب اور پریشان روح
جوش نے اپنے دور کے نوجوانوں کی اضطرابی اور پریشانی بھی بڑی وضاحت سے جابجا بیاب کی ہے

کیا شیخ، ملے گا گلفشانی کرکے
توہین مزاج نوجوانی کرکے
تو آتش دوزخ سے ڈراتا ہے انہیں
جو آگ کو پی جاتے ہیں پانی کرکے

ہنگامہ خیزی
ایک باغی شاعر کے ہاں گھن گرج، دھماکے، جھنکاریں جیسی چیزیں قدرتاً ہوتی ہیں۔ جوش کے ہاں بھی یہی تمام خصوصیات نمایاں ہیں، جن میں الفاظ کی دھوم دھام سے خوب کام لیاگیا ہے۔ جیسے

سنبھلو، کہ وہ زنداں گونج اٹھا، جھپٹو کہ وہ قیدی چھوٹ گئے
اٹھو کہ وہ بیٹھیں دیواریں، دوڑو کے وہ ٹوٹیں زنجیریں

شکستِ زنداں کا خواب
تعارف

اس نظم کے خالق جوش ملیح آبادی ہیں جن کو عام طور پر شاعرِ انقلاب کہا جاتا ہے۔ اس لئے انہوں نے متحدہ لیکن محکوم ہندوستان میں اپنی شاعری کے ذریعے اہلِ وطن میں انقلابی خیالات کا طوفان اٹھایا۔ غیر ملکی حکمرانوں کی غلامی کے خلاف نفرت پیدا کی اور جدوجہد آزادی کے لئے جوانانِ وطن کا لہو گرمایا۔

مرکزی خیال

اس نظم میںشاعر نے ہندوستان کی تحریک آزادی کے لئے قید خانے آباد کرنے والےہم وطنوں کو آزادی حاصل ہونے کا حسین خواب دکھایا ہے۔ ظالم غیر ملکی آقاوں کے ظلم کا خاتمہ ہونے والے ہے اور آزادی کی نعمت ملنے والی ہے۔ تحریک آزادی کے سپاہی دو فلک شگاف نعرے لگائیں گے جن کی گونج سے قید خانے لرز اٹھیں گے۔ اوپر پر جوش نوجوان بڑھ کر ہر طرف آزادی کا جھنڈا لہرادیں گے۔

خلاصہ

شاعر کہتا ہے کہ انگریز حکمرانوں نے برصغیر پاک و ہند کو غلامی کی زنجیروں میں جکڑ رکھا ہے۔ یوں پورا ملک ایک وسیع قید خانے کی صورت اختیار کرچکا ہے۔ ان حالات میں سامراجی حکمرانوں کے خلاف ملک میں نفرت کا الاو روشن ہوچکا ہے۔ تحریک آزادی ایک بپھرے ہوئے طوفان کی طرح پھیل رہی ہے۔ آزادی کے متوالوں سے دھڑا دھڑ جیلیں بھری جارہی ہیں، مگر ان ظالمانہ ہتھکنڈوں سے تحریکِ آزادی کو ختم نہیں کیا جاسکتا۔ ہندوستان کا یہ قیدخانہ آزادی کے نعروں سے گونجنے لگا ہے۔ ہم وطن قیدی غلامی کی زنجیریں توڑنے کا عزم کرچکے ہیں۔ ان کے سینوں میں جذبات کی طغیانی بھری ہے اور ان کی آنکھیں تلواروں کی چمک سے روشن ہیں۔ غریب ہندوستانیوں کی جرات آفریں جدوجہد کے آگے حکمرانوں کی ساری تدبیریں ناکام ہورہی ہیں اور ان کے سفاکانہ مظالم کی بساط لپٹ رہی ہے۔ انہیں شائد معلوم نہیں تھا کہ وہ جن ہندوستانیوں کی زبان بندی کررہے ہیں وہ جب آزادی کی زبان بولنے پر آئیں گے تو ایوانِ اقتتدار کی اونچی فصیلیں ان کی جوشیلی تقریروں کی گونج سے تھرانے لگیں گی۔ اے اہلِ وطن! جنگ کا بگل بج چکا۔ انگریزی راج کے خاتمے کا وقت آپہنچا۔ تمہاری جدوجہد آزادی کامیابی کی منزل پر آپہنچی، اٹھو اور آخری وار کرکے برطانوی حکومت کے لڑکھڑاتے ہوئے اقتدار کے پرزے اڑادو۔ برطانوی حکومت کے لئے اب اس سرزمین پر کہیں جائے پناہ نہیں

ڈپٹی نذیر احمد دہلوی
ایک تعارف


اردو ادب پر سحروطلسم کی گھٹائیں‘ مافوق الفطرت فضائیں‘ تضع و مبالغہ کی بلائیں چھائی ہوئی تھیں۔ ایسے میں ہم ایک ادیب کو دعائیںدیں‘ یہ ادیب ڈپٹی نذیر احمد ہیں جو سرسید احمد خان کی اصلاحی تحریک میں ان کے اہم رفیقِ کار تھے۔ انھوں نے اپنے قلم کی تمام تر توانیاں معاشرے کی اصلاح کے لئے وقف کردیں۔ اس مقصد کے لئے انھوںنے ناول نگاری کی صنف کو اپنا یا۔
پروفیسر آل آل احمدسرور کہتے ہیں:

انگریزی میں رچرڈسن اور فیلڈنگ ناول کے موجد کہے جاتے ہیں ہمارے یہاں نذیر احمد کی کہانیاں کو ناول کا اولین نمونہ کہا جاسکتا ہے۔

بقول شاعر

جو ضیاءدیتی ہے پنہاں لفظ کی تنویر میں
وہ نظر آتی ہے مجھ کو اس کی ہر تحریر میں
اس کے ہر ناول سے جلوہ گر ہے اصلاحی جمال
اس نے دل کی نیکیاں بھر دی ہیں ہر تصویر میں

طرزِ تحریر کی خصوصیات

ڈپٹی نذیر احمد کے طرزِ تحریر کی نمایاں خصوصیات ذیل میں درج ہیں۔

(۱) رواں اسلوب
مولوی صاحب کا طرزِ تحریر سادہ اور رواں ہے۔ وہ دہلی کی ٹھےٹ اور ٹکسالی زبان میں لکھتے ہیں۔ محاورات کا استعمال بھی بڑی سلیقہ مندی سے کرتے ہیں۔ محاورات کے بر محل استعمال سے ان کی زبان میں تاثیر پیدا ہوگئی ہے ۔ بقول فرحت اللہ بیگ:

ان کا یہ شوق کچھ حد سے بڑھا ہوا ہے کہ بعض اوقات وہ محاورات استعمال نہیں کرتے زبردستی ٹھونستے ہیں۔

(۲) ناول نویسی کے بانی
نذیر احمد اردو کے پہلے ناول نگار ہیں ان کا ناول ”مراة العروس“ اردو کا اولین ناول ہے۔ کچھ لوگ ناول نگاری کا بانی پنڈت رتن ناتھ کو تصور کرتے ہے لیکن مراة العروس جو کہ نذیر احمد کا ناول ہے ۹۶۸۱ میں شائع ہوچکا تھا جبکہ رتن ناتھ کا ناول ”فسانہ آزاد“ ۹۷۸۱ میں شائع ہوا۔
ڈاکٹر ابوللیث صدیقی کہتے ہیں:

نذیر احمد کو بلاشبہ جدید اردو ناول کا پیش رو قرار دینا چائیے۔

(۳) روایت شکنی
نذیر احمد نے پہلی بار غیر فطری رنگ کو چھوڑ کر سادی اور حقیقی زندگی میں قدم رکھا۔ انہوںنے جنوں‘ بھوتوں‘ پریوں اور مافوق الفطرت کرداروں کے بجائے اپنے ناول کے کردار ہماری گرد و پیش کی زندگی سے منتخب کیے۔ اس طرح انہوں نے صدیوں پرانا بندھن توڑنے میں پہل کی جن کے پیچھے زندگی کی بےشمار حقیقتیں چھپی ہوئی تھےں اور جس کو ہمارے افسانوی ادب نے چھپارکھا تھا ان کا سب سے بڑا کمال بھی یہی ہے کہ انہوں نے کہانی میں اصلیت کا رنگ بھرا۔
ڈاکٹر ابو للیث صدیقی کہتے ہیں:

قدیم قصے بادشاہوں‘ وزیروں‘ سوداگروں‘ شہزادوں یا پھر جنوں اور پریوں کے محور پر گھومتے تھے‘ عوام کو اس بارگاہ میں داخل ہونے کی اجازت نہ تھی‘ نذیر کے ناولوں میں عوام اس بزم میں پہلی بار شریک ہوئے۔

(۴) مقصدیت
نذیر احمد بھی اپنے دور کے دوسرے ادیبوں کی طرح مقصدیت کی پیداوار تھے۔ یہ ایک ایسا دور تھا جس میں ہر ادیب قوم کی اصلاح کی خاطر کام کرتا تھا گو کہ ہر ایک کا دائرہ عمل الگ الگ تھا۔ نذیر احمد نے بھی اپنے قصوں سے دین داری‘ خداپرستی اور اصلاحِ معاشرت کا کام لیا۔ ان کے ناول کسی نہ کسی مقصد کے تحت لکھے جاتے تھے وہ قصہ نویس سے زیادہ واعظ تھے۔
آل احمد سرور کہتے ہیں:

نذیر احمد سب کچھ بھول سکتے ہیں لیکن وہ مقصد نہیں بھول سکتے جس کے تحت وہ قصے لکھتے تھے۔ ان کے ناول جتنے اچھے وعظ ہیں اتنے اچھے قصے نہیں۔

(۵) پرچوش اندازِ بیان
نذیر احمد کا اندازِ بیان پرزور اور پرچوش ہے۔ ان کے کرداروں کی گفتگو بعض اوقات سراپا تقریر معلوم ہوتی ہے۔
ڈاکٹر سید عبداللہ کہتے ہیں:

نذیر احمد ہی اردو کے وہ انشاپرداز ہیں جن کی باتیں زوردار ہوتی ہےں۔ حالی کی آواز دھیمی‘ لحجہ مسکینوں جیسا۔ شبلی پکی مگر مختصر بات کہنے والے‘ آزاد میٹھی میٹھی‘ کبھی کبھی مختصر کہانیاں سنانے والے۔ ان میں نذیر احمد ہی وہ انشاپرداز ہیں جو پرزور انداز میں بات کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں ۔

(۶) مثالی کردار نگاری
ان کے کردار زیادہ تر مثالی ہوتے جو اگر نیک ہیں تو فرشتے اور بد ہیں تو شیطان۔ اسطرح وہ ارتقائی مدارج سے دور رہتے تھے۔
پروفیسر منظور حسین شور کہتے ہیں:

ان کے کردارمیکانکی طور پر عقل کے ایسے پتلے ہیں جو حسن و شباب اور محبت کے لطیف جذبات سے عاری ہیں۔ جن کے بغیر انسان فرشتہ ہو سکتا ہے لیکن انسان نہیں۔

(۷) معاشرے کی عکاسی
سرسید احمد خان نے اصلاح کا جو کام شروع کیا تھا۔ نذیر احمد نے اپنی تحریروں سے اسے قوت بخشی۔ نذیر احمد کا سب سے بڑا کمال یہ ہے کہ انہوں نے تمام قصوں میں ہماری معاشرتی زندگی کی سچی تصویر پیش کی ہے۔ انہوں نے قصوں سے مافوق الفطرت عناصر کی بھرمار کو خارج کرکے حقائق نگاری اور واقعیت کا رنگ بھر کر زندگی کی عکاسی کا ڈھنگ سکھایا۔ انھون نے طوطا مینا کی کہانیوں سے نکل کر اصلاح مواشرت اور اخلاق کے تانے بانے سے اپنے ناول مکمل کیے۔ وہ پہلے آدمی ہیں جنہوںنے ادب کو زندگی کے قریب کردیا۔
آل احمد سرور کہتے ہیں:

ماحول کی مصوری ان کے یہاں بہت اچھے طرح کی گئی ہے۔ اسلامی سوسائٹی اور خاص کر اسلامی خاندانوں کی اندرونی معاشرت کی جو تصویریں نذیر احمد نے کھینچی ہیں وہ ایسی سچی اور بے لاگ ہے کہ آنکھوں کے سامنے نقشہ پھر جاتا ہے۔

(۸) شوخی و ظرافت
نذیر احمد کی نثر کا ایک خاص جوہر ان ظریفانہ رنگ ہے۔ جو انکے ناولوں لیکچروں اور مضامین میں نمایاں ہے۔ وہ عمل زندگی میں بھی زیادہ خشک نہ تھے۔ نہایت زندہ دل اور ظریف آدمی تھے اور یہی ظرافت و زندہ دلی ان کی تحریروں میں پائی جاتی ہے انکی ظرافت اپنے نامور ہم عصر آزاد کی طرح شگفتگی کے دائرے سے آگے نہیں بڑھی۔ وہ تبسم تو بن جاتی ہے۔ مگر قہقہے سے گریز کرتی ہے البتہ وہ تقریروں میں طنز کے تیر چلانے سے نہیں چوکتے تھے۔
ڈاکٹر حسن فاروقی کہتے ہیں:

انہوں نے اہم معاشرتی مسائل کو دلچسپ فرضی قصوں کے ذریعے اس طرح پیش کیا ۔ جیسے کڑوی دوا کو حلق سے اتارنے کے لئے اس پر شکر لپیٹ دی جاتی ہے۔

(۹) بے تکلفی
ان کا تعلق بھی چونکہ دبستانِ سرسید سے تھا۔ چنانچہ ان کی تحریروں میں بے تکلفی اور بے ساختگی کا عنصر نمایاں ملتا ہے۔ یہ اپنے ناولوں میں اور اپنی تحریروں میں اپنے موضوع کو بے ساختگی کے ساتھ کرتے چلے جاتے ہیں اور کسی قسم کی بناوٹ‘ یا تکلف سے کام نہیں لیتے بلکہ اپنے موضوع کو انتہائی رواں انداز میں پیش کرتے ہیں اگرچہ کہ ان کے مضامین میںطوالت کے باوجود بھی بے تکلفی کا عنصر کثرت کے ساتھ جھلکتا ہے۔

حاصلِ تحریر

یہ تھیں اردو کے پہلے ناول نگار مولوی نذیر احمد کی نمایاں خصوصیات۔ انکے ناولوں کو کوئی ناول نہیں مانتا نہ مانے۔ ان کو ناول نگار کہنے میں کسی کو حجاب سے تو ہواکرے مگر ناول نگاری کی تاریخ ان کو خراجِ تحسین پیش کیے بغیر ایک قدم آگے نہیں بڑھ سکتی

اردو لٹریچر کے عناصر ِ خمسہ
پیراگراف
سر سید سے معقولات الگ کر لیجیئے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اجن کو کسی اور اور سہاے کی ضرورت نہیں ۔
صفحہ نمبر24

یہ اقتباس مہد افادی کے مضمون "اردو لٹریچر کے عناسر خمسہ " سے لیا گیا ہے ۔اس مضمون میں اردو ادب کے پانچ بڑے ادیبوں کو خراجِ تحسین پیش کیا ہے جو ادبکے مختلف اصناف کے دائرے کے آپ مالک تھے ۔
اس اقتباس میں ان کے دائرہ کمالات کو بیان کرتے ہوئے کہتے ہوئے مصنف کہتے ہیں کہ سرسید سے دلائل کو الگ کردینے سے سرسید کچھ نہین ہیں ،مولوی نذیر احمد نے ناول اور قصے مین مذہبی پس منظر میں لکھے ہین ۔مذہب کے بغیر وہ لقمہ بھی نہیں توڑ سکتے ۔شبلی تاریخ کے بانی ہیں اور تاریخ لے لی جائے تو تقریباً خالی ہیں ،حالی نے نثر میں صرف سوانح عمری لکھی ہے مگر انشائیہ لکھنے والے آمحمد حسین آزاد مکمل ہیں انہیں کسی اور سہارے کی ضرورت نہیں ۔
Lik
e



پیراگراف
ایک مغربی شاعر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور افسانے کا لطف آئے ۔
صفحہ نمبر24

یہ اقتباس مہد افادی کے مضمون "اردو لٹریچر کے عناسر خمسہ " سے لیا گیا ہے ۔اس مضمون میں اردو ادب کے پانچ بڑے ادیبوں کو خراجِ تحسین پیش کیا ہے جو ادبکے مختلف اصناف کے دائرے کے آپ مالک تھے ۔

جن میں ڈپٹی نذیر احمد بحیثت ناول نگار،مولانا محمد حسین آزاد اشائیہ پرداز ۔الطاف حسین حالی شاعری ،سرسید احمد خان مضمون نگاری اور مولانا شبلی نعمانی تارٰیخ اور فلسفہ کے بانی تھے
اس اقتباس میں مغربی شاعر جس نے فطرت پر مصوری کو ترجیع دی ہے ،کے خیال کے مطابق خوبصورت موتیوں کا خوبصورت آواز کے ساتھ زمیں پر بکھر جانا رواں بہتے پانی سے زیادہ خوبصورت ہے ۔مگر اس سے کہین زیادہ خوبصورت کسی مصنف کی خوبصورت تخلیق ہے جس میں بے ساسختگی بدرجہ اتم موجود ہو اور اس کی اضافی خوبی کے روکھے پھیکے مسائل کو بھی اس خوبصورت کے ساتھ اپنے اندر جزب کر سکے ہلکا پھلکا اندازٰ تحریر افسانے کا لطف دے ،طبیعت کو زرہ بھی بوجھل نہیں ہونے دیتا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اردو ادب کے عناصر ِ خمسہ
عبارت کی تشریح
اردو یعنی کل کی چھوکری اتنی زور دار ہوگئی ہے کہ السنہ یورپ یعنی مغربی بہنون سے بے تکلف آنکھیں ملا سکتی ہے ان مین سے ہر شخص مختص النوع خصائصِ ادبی کے ساتھ اپنے اپنے دائرے کا آپ مالک ہے ۔اور جس طرح القدما یعنی کلاسیکس آج واجب التعظیم ہے ایک وقت آئے کاگا جب ان کی ادبیات کا بیشت حصہ لائقِ پرستش اور غیر فانی سمجھا جائے گا ۔

تشریح سیاق و اسباق
دی گئی عبارت عظمیم نقاد مہدی آفادی کے قلم سے کھے گئے مضمون اردو لٹریچر کے عناصرِ خمسہ سے لی گئی ہے ۔
اس مضمون میں اردو ؒادب کے پانچ بڑے ادبوں کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا ہے ۔جو اپنے اپنے شعبوں میں مہارت رکھتے تھے ۔جن میں سرسید احمد خان ۔مضمون نگار ،ڈپٹی نذیر احمد ناول نویس اور قصہ گو ،پورفیسر محمد حسین آزاد شاندار اسلوب یا انشائیہ پرداز، الطاف حسین حالی شاعری اور مولانا شبلی نعمانی فلسفہ اور تارٰیخ میں نمایاں مقام رکھتے ہیں ان ہی عناصر یا ادیبوں نے اردو میں اتنا کام کیا کہ اردو کا دامن مالا مال کر دیا اور آج اردو جو کہ کم عمر ہونے کے باوجود یورپ بین القوامی زبانوں کے ساتھ مقابلہ کر سکتی ہے ۔اور آنے واے وقت میں ان ادیبوں کی بیشتر تصانیف کو جو لائقِ تحسین ہیں ، ہمیشہ یاد رکھا جائے گا یہ کلاسیک کا درجہ رکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مہدی افادی
(1868-1921) گورکھپور کے ایک علم دوست گھرانے کے تھے۔ جوانی میں نوکری کے ساتھ ساتھ لکھنے کا شوق بھی پیدا ہوا۔ سرسید تحریک سے بہت متاثر تھے۔ ادب میں افادیت کے قائل تھے۔ اپنے اسلوب تحریر میں منفرد تھے۔ انکی تنقیدی تحریروں کا انداز تاثراتی ہے۔ مزاج میں جمال پرستی بہت تھی۔ اسکا اثر انکے اسلوب پر بھی پڑا۔ تنقیدی مضامین کے علاوہ مکتوب نگاری میں بھی مہدی کی منفرد حیثیت ہے۔ "افادات مہدی" انکی مشہور کتاب ہے۔