Saturday, 30 August 2014

تبصرہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مضمون اپنی مدد آپ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(سرسید احمد خان
سر سید احم خان مصلح قوم تھے ۔انہوں نے ہندوستانیوں کی ترقی کے لیئے آواز بلند کی ۔وہ ہندوءوں اور مسلمانوں سب کے خیر خواۃ تھے ۔لیکن جب انہوں نے دیکھا کہ ہندوؤں  کسی طرح بھی مسلمانوں کو ترقی کرتے ہوئے نہیں دیکھ سکتے تو انہوں نے صرف مسلمانوں کی ترقی و بہبود کے لیئے کوششیں شروع کی ۔اردو ہندی جھگڑے نے سر سید کی آنکھیں  کھولدی ۔سر سید دل سے چاھنے لگے کہ مسلمان ترقی کر کے برصغیر کے دوسری قوموں کے ساتھ شانہ بشانہ چل سکیں ۔سر سید نے مسممانوں کی ترقی کے لیئے قلہم کا سہا لیا اور بےشمار مقالات لکھے انہی میں سے ایک مصمون "اپنی مدد آپ"  ہے ۔۔۔۔۔اس میں سر سید نےعام دلائل  کے علاوہ  قراآن َ پاک  کی اس آیت کا حوالہ دیا ہے جس کا مضمون یہ ہے کہ االلہ ان کی مدد کرتا ہے جو اپنی مدد آپ کرتے ہیں ۔۔۔۔۔
خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی
نہ ہو آپ جس کو خیال آپ اپنی حالت بدلنے کا ۔
یہ حقیقت ہے کہ شخصی ترقی شخصی محنت اپنی مدد آپ ہی کی بدو؛ت ہے ۔دنیا کی مختلف قوموں کے عروج  زوال پر نظر ڈالیں تو معلوم ہوگا کہ صرف انہی اقوام نے ترقی کی ہے جو اپنی مدد آپ کے اصول پر عم پیرا تھے ،جنہوں نے اس عمل سے غفلت کی انہوں نے زلت و رسوائ دیکھی ۔۔۔۔
سر سید کا یہ مصمون حقیقی معنوں میں ایک ایسی حقیقت ہے جس پر قوموں کی ترقی کا دارومدار ہے ،اندازِ تحریر سادہ اور ناصحانہ ہے ۔۔۔جو کہ سرسید کی تحریروں کا خاصہ ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔

Friday, 29 August 2014

شیخ غلام علی ہمدانی مصحفی:۔

(1751ء۔۔۔۔1825ء)مصحفی
مصحفی، شیخ غلام ہمدانی (۱۸۲۴ - ۱۷۵۰) امروہہ کے رہنے والے تھے۔ جوانی میں دہلی آئے۔ تعلیم کی شروعات امروہہ میں، تکمیل دہلی میں ہوئی۔ ذوق شاعری دہلی میں پروان چڑھا جس کو وہ اپنا وطن جانتے تھے۔ ۲۲ سال کی عمر میں تنگ دستی سے پریشان ہو کر پہلے آنولہ گئے، پھر ٹانڈہ اور پھر لکھنؤ پہنچے۔ ایک سال بعد دہلی واپس آ گئے۔ مشق سخن جاری رہی اور بہت جلد اساتذہ سخن میں شمار ہونے لگے۔ بارہ سال بعد نواب آصف الدولہ کے دور میں مستقلاً لکھنؤ کی سکونت اختیار کر لی۔ یہاں انشاء پہلے ہی سے موجود تھے۔ انھیں کے توسط سے نواب سلیمان شکوہ کی سرکار میں بازیابی ہوئی اور ان ہی کے دربار میں انشاء اللہ خاں سے کوب معرکے بھی ہوئے۔ سلیمان شکوہ نے انشاء کا ساتھ دیا۔ نتیجتاً دربار سے تعلق ختم کر کے نواب مرزا محمد تقی سے وابستہ ہو گئے۔ آخری عمر تنگدستی میں گزری۔ مصحفی کی تصنیفوں میں نو دیوان، اردو شاعروں کے دو تذکرے، "تذکرہ ہندی"، "ریاض الفصحا" اور فارسی شاعروں کا ایک تذکرہ "عقدِ ثریا" دست یاب ہیں۔ فارسی کا ایک دیوان بھی نظیری کے جواب میں مرتب کیا تھا۔ مصحفی نے شاگردوں کی کثیر تعداد چھوڑی اور ان کا اثر دور تک پھیلا۔

مصحفی دہلی سے ہجرت کرکے لکھنو آئے۔ ان کی شاعری کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ ان کا شعری مزاج دہلی میں صورت پذیر ہوا لیکن لکھنوکے ماحول ، دربارداری کے تقاضوں اور سب سے بڑھ کر انشائ سے مقابلوں نے انہیں لکھنوی طرز اپنانے پرمجبور کیا۔ ان کا منتخب کلام کسی بھی بڑے شاعر سے کم نہیں۔ اگر جذبات کی ترجمانی میں میر تک پہنچ جاتے ہیں تو جرات اور انشائ کے مخصوص میدان میں بھی پیچھے نہیں رہتے۔ یوں دہلویت اور لکھنویت کے امتزاج نے شاعری میں شیرینی ، نمکینی پیدا کر دی ہے۔ ایک طرف جنسیت کا صحت مندانہ شعور ہے تو دوسری طرف تصوف اور اخلاقی مضامین بھی مل جاتے ہیں۔
جمنا میں کل نہا کر جب اس نے بال باندھے
ہم نے بھی اپنے جی میں کیا کیا خیال باندھے

وہ جو ملتا نہیں ہم اس کی گلی میں دل کو
در و دیوار سے بہلا کے چلے آتے ہیں

تیرے کوچے میں اس بہانے ہمیں دن سے رات کرنا
کبھی اس سے بات کرنا کبھی اس سے با

سرسید احمد خان

حالات ِ زندگی

سرسید احمد خان ۷۱۸۱ءمیں دہلی میں پیدا ہوا۔ والد کا نام میر تقی تھا جو ایک درویش منش بزرگ تھے۔ سرسید کی پرورش میں ان کی والدہ عزیز النساء بیگم کا بڑا ہاتھ تھا۔ جنہوں نے سرسید کی تعلیم و تربیت زمانے کی ضروریات کے مطابق کی۔۸۳۸۱ءمیں سرسید دہلی میں سرشتہ دار کے عہدہ پر مقرر ہوئے اس کے بعد منصفی کا امتحان پاس کرکے منصف ہوگئے۔ ۲۴۸۱ءمیں بہادر شاہ ظفر کی طرف سے ان کو جواد الدولہ عارف جنگ کا خطاب ملا۔


تصانیف

سرسید کی مشہور تصانیف میں مندرجہ ذیل شامل ہیں:

  • آثار الضادید
  • آئین اکبری
  • تاریخ ضلع بجنور
  • رسالہ اسباب بغاوت ہند
  • تصحیح تاریخ فیروز شاہ
  • تین الکلام
  • تفسیر الکلام
  • تفسیرالقرآن
  • خطباتِ احمدیہ


طرزِ تحریر کی نمایاں خصوصیات

سرسید کے طرزِ تحریر کی نمایاں خصوصیات درج ذیل ہیں:
'قدیم رنگ
سرسید نے سب سے پہلے اپنے بھائی کے اخبار سید الاخبار میں مضامین لکھنا شروع کئے۔ آثارالضادید میں وہی قدیم اسلوبِ بیان ملتا ہے۔ بلکہ ۷۵۸۱ءتک سرسید نے جو کچھ لکھا ہے امیں یہی رنگ نمایاں ہے۔ یعنی الفاظ کا بے محل استعمال اور قواعد سے بے پروا۔
وہ تحریر یا تقریر کی رو میں گرامر کی کچھ پرواہ نہیں کرتے تھے ۔وہ ان قیدوں سے جو شاعروں اور منشیوں نے مقرر کی ہیں بالکل آزاد ہیں۔ (حالی)
وہ دور ہی ایسا تھا کہ قواعد کی پابندی سخت نہ تھی۔ الفاظ کی بے ترتیبی عام تھی۔ اردو فقروں میں اکثر دھوکہ ہوتا تھا کہ فارسی کا ترجمہ ہیں لیکن سرسید کو اس امر کا احساس تھا کہ اس قسم کی تحریر بہتر نہیں ہے۔
جدید رنگ
سرسید کی شخصیت بڑی زمانہ شناس تھی۔ انہوں نے زمانے کا رنگ پہچان لیا تھا۔ جنگِ آزادی کی ناکامی کے بعد مسلمانوں کی سیاسی، تمدنی، تہذیبی اور معاشرتی زندگی کا نظام درہم برہم ہوچکا تھا۔ سرسید نے ایک مصلح قوم ہونے کی حیثیت سے اپنا مقصد حیات، مسلک زندگی اور لائحہ عمل متعین کرلیا اور تحریرو تقریر کے ذریعہ قومی و ملکی، مذہبی، معاشرتی، اخلاقی، علمی اور تعلیمی خدمات شروع کیں۔ انہوں نے آثار الضادید کو آسان زبان میں شائع کیا۔
سادگی و روانی
نثر کا روز مرہ کی سادہ بات چیت کی زبان سے قریب تر ہونا بہت ضروری ہے۔ سرسید نے اپنی نثر کو اسی نصب العین پر پورا اتارنے کی پوری کوشش کی ہے۔ اس میدان میں وہ اسٹیل اور ایڈیسن سے متاثر نظر آتے ہیں۔ جس طرح ایڈیسن کے متعلق کہا جاتا ہے کہ اس نے ادب کو درباروں اور محلوں سے نکال کر قہوہ خانوں اور بازارون تک پہنچا دیا۔ اسی طرح سرسید نے اردو ادب کو خانقاہ، دربار اور کوچہ و بام سے نکال کر دفتروں، تعلیم گاہوں اور متوسط طبقے کے دل و دماغ تک پہنچا دیا اور اس سے زندگی کی رہنمائی کا کام لیا اور اردو نثر کو اس قابل بنادیا کہ وہ علمی کام کرسکے۔ سرسید پیچیدہ سیاسی مسائل، مذہبی نکات، اور دشوار اصلاحی مباحث کو بھی نہایت صفائی، سادگی اور بے تکلفی کے ساتھ بیان کردیتے ہیں۔ سرسید نے فلسفیانہ، سائنسی اور تنقیدی مضامین میں بھی سادگی کو ہاتھ سے جانے نہیں دیا اور ہر جگہ موضوع کی فطرت کے مطابق زبان استعمال کی ہے۔ انہوں نے کسی بحث میں بھی اصطلاحیں استعمال نہیں کی ہیں بلکہ ہر جگہ ان کی زبان عام فہم اور رواں ہے۔ ان کی تحریر کا جادو ہر شخص کو مسحور کرلیتا ہے۔ ان کا سب سے بڑا کمال اس وقت ظاہر ہوتا ہے جب وہ کسی عملی مسئلہ پر بحث شروع کرتے ہیں اور ان کی بحث اتنی سادہ، رواں اور مدلل ہوتی ہے اسے تسلیم کئے بغیر چارہ نہیں ہوتا۔
مقصدیت
یہ مقولہ کہ طرزِ ادا مصنف کی ہستی کا آئینہ دار ہوتا ہے سرسید پر صادق آتا ہے۔ ان کے طرزِ تحریر میں ان کی ہمہ گیر شخصیت ان کی زندگی اور ان کے ماحول کا مشترکہ ہاتھ تھا۔ سرسید پہلے ایک مصلح تھے پھر ایک ادیب ۔ ان کا طرز ایک ذریعہ تھا مقصد نہیںتھا۔ اپنی بات دوسروں تک پہنچانا یہی حقیقت سرسید کے انداز کا راز ہے۔ انہوں نے اپنی نثر سے قومی اصلاح کا کام لیا ہے۔ یہی وجہ تھی جو سرسید کے لئے کہا گیا:
سرسید سے معقولات الگ کرلیجئے تو وہ کچھ نہیں رہتے۔ (مہدی آفادی)
تہذیب الاخلاق کے تمام مضامین میں مقصدیت اور تبلیغی رنگ پایا جاتا ہے۔ تبلیغی نثر اردو میں سرسید سے پہلے بھی موجود تھی لیکن اس کی زبان صاف اور سادہ نہیں تھی۔
ظرافت
سرسید ایڈیسن اور اسٹیل سے متاثر ضرور نظر آتے ہیں لیکن انہوں نے ان کا مکمل رنگ اختیار کیا ہے۔ کیونکہ ایڈیسن نے اصلاح احوال کے لئے مزاحیہ انداز اختیار کیا ہے اور اپنے معاشرے کی بد اخلاقیوں اور برائیوں کا دل کھول کر تمسخر اڑایا ہے۔ سرسید میں مزاح نگار کی صلاحیتیں کم تھےں اس لئے وہ مکمل طور پر ان کا رنگ اختیار نہ کرسکے۔ انہوں نے کوشش ضرور کی ہے اور اس سے موقع محل کے مطابق کام لیا ہے۔ اس کی بہترین مثال ان کے مضمون طریق تناول طعام میں ملتی ہے۔ جس میں انہوں نے مزاحیہ انداز میں یہ بتایا ہے کہ مسلمان کس برے طریقے سے کھانا کھاتے ہیں۔
تمثیلی رنگ
مقالات میں تمثیلی رنگ اختیار کرنے کا سہرا سرسید کے سر ہے۔ اس سلسلہ میں ان مضامین میں امید کی خوشی سے بہتر مضمون شاید ہی دوسری زبانوں میں اردو ادب میں تو اس کا ثانی نہیں ملتا۔ سرسید کی فطرت میں چھپی ہوئی رومانیت اس مضمون میں نمایاں ہے۔ اور اس نے اردو نثر نگاری میں ایک نیا باب کھالا ہے۔ اس کا مقابلہ چارلس لیمپ کے مضمون ڈریم چلڈرن سے کیا جاسکتا ہے۔
مقالہ نگاری
اردو ادب کی تاریخ میں سرسید پہلے شخص ہیں جہنوں نے فن مقالہ نگاری کی ابتدا کی۔ سرسید کے اخبارسوسائٹی گزٹ اورتہذیب الاخلاق سے پہلے بہت سے اخباروں اور رسالوں میں مذہبی، اخلاقی اور علمی مقالے شائع ہوئے تھے۔ لیکن سرسید نے نئے موضوعات پر قلم اٹھایا، خوشامد، بحث و تکرار، رسم ورواج اور سویلزیشن وغیرہ پر انہوں نے صاف اور سادہ زبان میں مقالے لکھے۔ سرسید نے آزادی رائے پر ایک اصلاحی مقالہ تحقیقی رنگ میں لکھا۔
تہذیب الاخلاق
انگلستان سے واپسی پر انہوں نے انگلستان کے مشہور اخبارات اسپیکٹیٹر اور ٹیٹلڑ کے انداز پر رسالہ تہذیب الاخلاق نکالا۔ اس سے انہوں نے نہ صرف اپنی نثر نگاری کی ابتدا کی بلکہ اردو نثرنگاری کے لئے ایک صحیح اور سیدھا راستہ کھول دیا۔
سرسید نے کام کی زبان میں کام کی باتیں لکھنا سکھائیں۔ تہذیب الاخلاق نے مردہ قوم میں زندہ دلی کی ایک لہر پیدا کردی ۔ قوم میں ایک غیر معمولی جوش عمل پیدا ہوا ایک نئی زندگی نے انگڑائی لی جس نے ہر شعبہ فکر کو بدل دیا۔ (پروفیسر آل احمد سرور)
دبستانِ سرسید
سرسید انیسویں صدی کے ہندوستان کی عظیم شخصیت رہبر و مصلح تھے۔ وہ مسلمانوں کے اخلاق، مذہب، معاشرتی زندگی، تعلیم، رسم و رواج اور زبان و ادب وغیرہ کی اصلاح کرنا چاہتے تھے۔ اس اصلاحی کوشش میں ان کو محسن الملک، مولوی چراغ علی، مولوی ذکاءاللہ، حالی نذیر احمد، شبلی نعمانی اور مولوی زین العابدین جیسی شخصیتیں مل گئیں۔ جنہوں نے سرسید کے دوش بدوش اس عظیم مقصد کی تکمیل کی کوشش کی جس کے لئے سرسید نے اپنی پوری زندگی وقف کردی۔ اس تحریک نے مسلمانوں کی کایا پلٹ دی۔
عظمتِ سرسید
سرسید کی عظمت کو ان الفاظ میں بیان کیا جا سکتا ہے:
سرسید نے ادب اور معقولات پر جس حد تک مجتہدانہ رنگ چڑھایادراصل ان کی اولیات میں داخل ہونے کے لائق ہے۔ یہ ان ہی کے قلم کی آواز بازگشت ہے جو ملک مےں بڑے بڑے مصنف کے لئے دلیل راہ بنی۔ آج جو خےالات بڑی آب و تاب اور عالمانہ سنجیدگی کے ساتھ مختلف لباس میں جلو ہ گرکئے جاتے ہیں دراصل اسی زبردست اور مستقل شخصیت کے عوارض ہیں۔ ورنہ پہلے یہ جنس گراں باوصف استطاعت اچھے اچھوں کی دسترس سے باہر تھی۔ سرسید کے کمالات ادبی کا عدم اعتراف صرف ناشکری صرف ناشکری ہی نہیں بلکہ تاریخی غلطیہے۔ (مہدی آفادی)

Wednesday, 27 August 2014

ابو الاثرحفیظ جالندھری پاکستان کے قومی شاعر تھے۔ مگر ان کی مقبولیت بھارت میں کم نہیں تھی۔ تقسیم ملک سے قبل ہی وہ اپنی ادبی حیثیت منوا چکے تھے۔ ان کی دوسری شناخت ”شاہنامہ اسلام“ کے تناظر میں اسلامی تاریخ، تہذیب اور ثقافت کا شعری حوالہ ہے۔ انہوں نے ثقافتی اکتساب کے حوالوں سے اعلیٰ اور ارفعیٰ اور افضل ہستیوں کی ایسی شعری پیکر تراشی کی کہ ان کی تخلیق بر صغیر ہندو پاک میں اپنی نوعیت کی واحد تخلیق قرار پائی۔ 

حفیظ جالندھری کی شاعری کی تیسری خوبی اس کی غنائیت ہے۔ وہ خود بھی مترنم تھے اس لیے انہوں نے ایسی لفظیات کا انتخاب کیا جو غنائیت کے پیکر پر پورے اترتے ہیں۔ غنائیت کا سبب ان کی گیت نگاری بھی ہے۔ انہوں نے دوسری جنگ عظیم کے زمانے میں فوجی گیت لکھے تھے اور گیت کو بھی انہوں نے نئے پیکر عطا کیے۔ شاید اسی لیے آج تک حفیظ جالندھری کی شناخت ” ابھی تو میں جوان ہوں“ کے حوالے سے کی جاتی ہے۔ بلا شبہ یہ ایک پر اثر گیت ہے کیوں کہ اس میں جو الفاظ استعمال کیے گئے ہیں وہ اپنی جگہ پر نگینے کی طرح جڑے ہوئے ہیں اور سامع کے دل پر گہرا اثر چھوڑتے ہیں۔ 

لیکن حقیقت یہ بھی ہے کہ حفیظ کی غزلوں کا سرمایہ کافی ہے اور حفیظ خود کو غزل گو کہلوانا پسند کرتے تھے۔ انہوں نے غزل میں بہت سے نئے تجربات کیے۔ سب سے بڑی بات یہ ہے کہ سلیس زبان کا استعمال کیااور گرد و پیش کے واقعات کو اپنی غزلوں کا موضوع بنایا۔ ایک طرح سے انہوں نے غزل کو فطری پوشاک عطا کی۔ ان کے یہاں روایت سے بغاوت ملتی ہے۔ غنائیہ کے سبب زبردست رچاؤ ہے۔ ان کے کچھ اشعار تو آج کے حالات کا احاطہ کر لیتے ہیں۔ ان کی حیثیت ماوراے عصر ہے:
حفیظ جالندھری سے میری چند ملاقاتیں اس وقت ہوئیں جب وہ 1976ء میں بھارت تشریف لائے۔ ان کا قیام دہلی میں اپنی منہ بولی بیٹی اور مشہور صحافی و ادیبہ منورما دیوان کے گھر پر تھا۔ منورما دیوان کے شوہر معروف ادیب دیوان بریندر ناتھ ظفر پیامی میرے دوستوں میں تھے۔ میں جب ان کے گھر پر حفیظ جالندھری صاحب سے ملنے کے لیے گیا تو انہوں نے ان سے میرا تعارف بڑے جان دار الفاظ میں کروایا۔ حفیظ صاحب بہت ہی پر تپاک انداز میں ملے اور دیر تک شعر و سخن کی باتیں کرتے رہے۔

اس کے بعد وہ ایک مشاعرے میں پٹنہ بھی تشریف لائے۔ ان کی آمد سے استفادہ کرتے ہوئے ریاستی گورنر جگن ناتھ کوشل نے، جو اردو شاعری کے بے حد قدر داں اور حفیظ صاحب کے شاعری کے مداح تھے، حفیظ کے اعزاز میں ایوانِ گورنرمیں ایک بڑے مشاعرے کا اہتمام کیا اور ان کے تعارف میں پر زور تقریر کی۔ 

پاکستان میں اس وقت ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت تھی اور حفیظ صاحب چند وجوہات سے اس حکومت سے بہت شاکی تھے۔ تقریر میں تو اس کا اظہا رنہیں کیا لیکن اشعار میں کافی ہدف ملامت بنایا۔ انہوں نے مشاعرے میں جو اشعار پڑھے ان میں سے چند مجھے یاد ہیں:
شاد عظیم آباد ی کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے انہوں نے شاد کی مشہور غزل ”کھلونے دے کے بہلایا گیا ہوں“ کی زمین میں بھی ایک غزل سنائی تھی۔ جس کا مقطع تھا:

حفیظ اہل ادب کب مانتے تھے 
بڑے زوروں سے منوایا گیا ہوں 

موقعے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے میں نے حفیظ صاحب سے ایک تفصیلی انٹر ویو کیا تھا۔ وہ بار بار حکومت وقت کو ہدف بناتے تھے او ر ہم عصر شعرا پر بھی زبردست تنقید کرتے تھے۔ خاص طور سے فیض احمد فیض اور جوش ملیح آبادی ان کے نشانے پر تھے۔ انہوں نے تو یہاں تک کہہ دیا تھا کہ فیض اور ان کے کچھ ہم نشینوں نے اپنے قلم روس کے ہاتھوں بیچ دیے ہیں۔ انہوں نے یہ انکشاف بھی کیا کہ کے جی بی کے کچھ اہم اشخا ص نے ان سے بھی رابطہ کیا تھا اور بڑی رقم دینے کی پیش کش کی تھی، مگر انہوں نے اپنا قلم فروخت کرنے سے انکار کر دیا۔ 

اس وقت حفیظ صاحب عمر کی اس منزل میں تھے کہ انہیں ذرا ذرا سی بات پر غصہ آجاتا تھا اگر میں کریدنے کے لیے کچھ سوال کرتا تھا تو وہ غصے میں آکر ہلکی باتیں بولنے لگتے تھے۔ 

حفیظ جالندھری بہر حال اردو کے شعری ادب میں قابل ذکر حیثیت کے مالک ہیں اور انہوں نے اردو شاعری کو جو کچھ دیا ہے اس کا اردو ادب میں نمایاں مقام ہے۔ ان کے بہت سے اشعار سہلِ ممتنع کی حیثیت رکھتے ہیں:

دل ابھی تک جواں ہے پیارے
کس مصیبت میں جان ہے پیارے 
تلخ کر دی ہے زندگی اس نے 
کتنی میٹھی زبان ہے پیارے


حفیظ جالندھری 14 جنوری 1900ءکو جالندھر میں پیدا ہوئے تھے اور 21دسمبر 1982کو لاہور میں انتقال فرمایا۔ انہوں نے اپنی تخلیقات میں چار جلدوں میں شاہنامہ اسلام، نغمہ زاد ‘ سوز و ساز، تلخابہ شریں اور چراغ سحر چھوڑے۔ ان کی شعری کائنات چھ دہائیوں پر محیط ہے اور ان کا یہ دعویٰ درست ہے:

شعر وادب کی خدمت میں جو بھی حفیظ کا حصہ ہے
یہ نصف صدی کا قصہ ہے دو چار برس کی باتیں نہیں 

احوال        غزل خواجہ میر درد
خواجہ میر درد اردو کے عظیم شاعر ہیں۔ تصوف پر ان سے بہتر کسی نے نہیں کہا۔ تصوف خان کی زندگی کی بڑی حقیقت بلکہ اوڑھنا بچھونا ہے۔ ان کے کلام میں چاند کی سی پاکیزگی ، عظمتِ خیال اور جلوہ حق کی حکمرانی ہے اور زباں وبیاں کی سادگی اور دلکشی گویا سونے پہ سہاگہ ہے۔

شعر۱
تہمت چند اپنے ذمے دھر چلے
کس لئے آئے تھے ہم کیا کرچلے
تشریح
یہ شعر درد کے رنگ اور طرز کی عکاسی کرتا ہے۔ درد کہتے ہیں کہ ہم اس دنیا میں آکر وہ وعہدوپیماں بھول گئے جو ہم نے اللہ سے روزِ اول کئے تھے۔ یعنی یہ کہ ہم اس کی ہدایت اور احکام کے مطابق زندگی بسر کریں گے اور اپنی پاکیزہ روح کی امانت کو دنیا کی آرائشوں سے آلودہ نہیں کریں گے اس کے برعکس ہم دنیا کی رنگینیوں میں کھوگئے اور خطاوں کے کتنے ہی الزامات اور تہمتیں اپنے ساتھ لے کر رخصت ہوئے۔
دوسرے مصرعے میں طنزیہ لہجے نے جان پیدا کردی ہے۔ کہنا چاہتے کہ ہم دنیا میں اس لئے ہرگز نہیں بھیجے گئے تھے کہ ہم گناہوں سے اپنی روح کو داغ دار کرلیں۔

شعر۲
زندگی ہے یا کوئی طوفان ہے
ہم تو اس جینے کے ہاتھوں مرچلے
تشریح
درد نے اس شعر میں زندگی کو طوفان سی تشبیہہ دیتے ہوئے زندگی کی ایک بڑی حقیقت کو بے نقاب کیا ہے۔ کہتے ہیں کہ یہ کوئی زندگی ہے جس میں نہ کوئی آرام و سکون ہے نہ ہماری خوشی کو دخل ہے ایک پتوار نا�¶ ہے جو موجِ حادثہ میں بہتی جارہی ہے۔ جس طرح طوفان پر انسان کا کوئی بس نہیں چلتا اسی طرح ہم خیالات کے دھارے پر بہتے رہے اور زندگی میں درد و غم کے طوفان اٹھتے رہے۔ ہم بے اختیار جینے پر مجبور ہیںاور اسی حالت میں ہمیں اپنے غم کا پیمانہ بھرنا پڑا۔ درد کا شعر ہے کہ
تھا عالم جبر کیا بتائیں
کس طرح سے زیست کرگئے ہم
شعر۳
کیا ہمیں کام ان گلوں سے اے صبا
ایک دم آئے ادھر ادھر چلے
تشریح
درد اپنے مخصوص طرزِ اسلوب میں اس شعر میں بے ثباتی کے مضمون کو بڑی خوبصورتی سے پیش کرتے ہیں۔ درد کہتے ہیں کہ ہمیں ان پھولوں سے یعنی دنیا کی رنگینیوں سے کیا کام، اس سے ہمارا کیا واسطہ جبکہ ہمارا قیام اس دنیا میں اتنا مختصر، اتنا عارضی ہے کہ ابھی آئے اور ابھی چلے، ہماری حیاتِ مختصر ہمیں مہلت ہی کب دیتی ہے کہ ہم دنیا کی رنگینیوں اور دلچسپیوں سے جی بھر کر لطف اندوز ہوں اور ان سے جی لگائیں۔ اس لئے بہتر یہ ہے کہ اس دنیا میں رہتے ہوئے عدم کی کوچ کی تیاری کریں۔
آتش کا ایک شعر ہے
عدم کی کوچ لازم ہے فکرِ ہستی میں
نہ کوئی شہر نہ کوئی دیارِ یار میں ہے
شعر۴
دوستو! دیکھا تماشہ یاں کا بس
تم رہ بس، ہم تو اپنے گھر چلے
تشریح
درد کا یہ شعر ان کے مخصوص طرزِ فکر کی ترجمانی کرتا ہے۔ انسان اس دنیا میں عارضی قیام کے لئے آتا ہے اور اس سرائے فانی میں حیاتِ مختصر کے چند لمحات لئے ایک مہمان کی طرح اپنے اصل وطن یعنی خدا کے پاس لوٹ جاتا ہے۔ اس خیال سے درد نے یہ نقطہ پیدا کیا ہے کہ جب تک وہ اس سرائے فانی میں ہے طرح طرح کی پریشانیوں اور مشکلات سے دوچار رہے گا۔ یہ دنیا اسے راس نہ آئی اس لئے وہ دنیا والوں سے مخاطب ہوکر فرماتے ہیں کہ اے دوستو! ہم نے یہاں کا تماشہ خو ب دیکھا، یہ دنیا ہمیں ذرا بھی نہ بھائی تو تم اس دنیا میں رہو تم تو اس سے منہ موڑ کر اپنے خالقِ
حقیقی کے پاس جارہے ہیں۔

شعر۵
شمر کی مانند ہم اس بزم میں
چشمِ نم آئے تھے دامن تر چلے
تشریح
درد نے اپنے شعر مےں ایک بڑی حقیقت افروز بات کہی ہے۔ کہتے ہیں کہ جسطرح محفل میں شمع جلتی ہے اور روتی ہے اور آخر شب جب اس کی لو دم توڑتی ہے تو اسکا دمن قطرہ ہائے اشک (موم کا اشعارہ) سے بھرجاتا ہے۔ اسی طرح دنیا میںآئے تو اشک بار تھے اور اب جب کہ ہم اس دنیا سے رخصت ہورہے ہیں تو ہمارا دامن اشک ہائے ندامت (گناہوں) سے تر ہے جو ہم نے اپنی خطاوں، گناہوں اور لغزشوں پر بہائے۔ درد نے دامن تر سے بڑا خوبصورت کام لیا ہے۔ چشمِ نم کی رعایت سے ”دامن تر“ ہونے میں جو لفظی اور معنوی دلکشی پیدا ہوگئی ہے وہ تعریف سی بالاتر ہے۔

شعر۶
ساقیا! یاں لگ رہا ہے چل چلاو
جب تلک بس چل سکے ساغر چلے
تشریح
اس شعر میں درد کا مخصوص انداز فکر جلوہ گر ہے۔ درد اس دنیا کو میکدے سے تشبیہہ دےتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اے ساقی! س حجم خان عالم“ سے سارے میخوا یکے بعد دیگرے اٹھتے چلے جارہے ہیں۔ اس بزم جہان سے لوگ ایک ایک کرکے رخصت ہورہے ہیں۔ اسی لئے جب تک ممکن ہو ہمیں زندگی سے لطف اندوز ہونے دے یعنی جو وقت ہمیں میسر ہے اس کو غنیمت جانیں۔
درد ہی ایک جگہ فرماتے ہیں
موت سے کس کو دستگاری ہے
آج وہ، کل ہماری باری ہے

شعر۷
درد کچھ معلوم ہے یہ لوگ سب
کس طرف سے آئے تھے کدھر چلے
تشریح
اس شعر میں درد خود کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ انسانی عقل قدرتِ خداوندی کے اس بھید کو سمجھنے سے قاصر ہے کہ ان کی ابتداءاور ان کا آغاز کیا ہے اور اسے انجام کی بھی خبر نہیں کہ یہ کاروانِ حیات جس کے ساتھ وہ خود بھی رواں ہے کہاں جارہا ہے۔ یہ دنیا کا قافلہ کہاں سے آرہا ہے اور اس کا آخری مقام کہاں ہے
ازل سے ابد تک سفر ہی سفر ہے
مسافر ہیں سب لوگ چلتے رہیں گے

>حضرت فاطمہ رضہ کی رخصتی
تعارف
قومی ترانے کے خالق ابوالاثر حفیظ جالندھری کا شمار اردو کے قادرالکلام شعراء میں ہوتا ہے۔ یہ نظم حضرت فاطمتہ الزھرا رضہ کی رخصتی ان کی شاہکار نظم ہے جو شاہنامہ اسلام سے ماخوذ ہے۔ بیانیہ شاعری میں یہ نظم منظر نگاری اور واقعہ نگاری کا شاہکار ہے۔ اس میں انہوں نے شگفتہ بیانی کے وہ پھول کھلائے ہیں جنہوں نے شاھنامہ اسلام کو ایک سدابہار نظم بنادیا۔
مرکزی خیال
دنیا بیٹیوں کو جہیز میں ایک جہاں دیتی ہے لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی لاڈلی صاحبزادی کو جو جہیز دیا وہ حیا کی چادر، پاکدامنی جا ہانگ اور صبروقناعت کے گہنے تھے۔ عفت و پاکدامنی کے زیور سے آراستہ اور ہمیشہ خدا کے آگے سجدہ ریز پیشانی لے کہ وہ اپنی سسرال گئیں۔
حضرت فاطمہ رضہ کی شادی حضرت علی رضہ کے ساتھ نہایت سادگی سے ہوئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جنگِ بدر سے تشریف لاچکے تھے۔ باہمی راضامندی سے انتہائی سادگی کے ساتھ یہ پروقار اور عظیم تقریب اپنے انجام کو پہنچی۔ حضرت علی رضہ نے اپنی زرہ بیچ کر مہر ادا کیا اور دعوتِ ولیمہ کی۔
حضرت فاطمہ رضہ کی ذاتِ گرامی وہ ذات تھی جسمیں نیک بختی اور سعادت کا اعلی نمونہ موجود تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ رضہ کو ورثے میں شرم و حیا اور صدق و صفا کی دولت ملی تھی۔ فیاضی ایسی ملی تھی کہ جس کی شہادت قرآن نے دی تھی۔ آپ کو سچائی اور نیکی کا پیکر کہا گیا۔ حضرت علی رضہ بے حد خوش بخت تھے کہ آپ کو ایسی رفیقِ حیات ملیں۔ اپنے مقدس باپ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر سے رخصت ہوکرجب آپ حضرت علی رضہ کے گھر آئیں تو اگرچہ دولتِ دنیاویآپ کے ساتھ نہ تھی البتہ دولتِ صبروفا اور قناعت و شکر سے مالامال تھیں۔ ایک کھر درے بان کی چارپائی، دو آٹا پیسنے کی چکیاں، مٹی کے دو گھڑے، چمڑے کا ایک گداجس میں کھجوروں کے پتے بھرے تھے، ایک پانی بھرنے کی مشک، یہ وہ مقدس جہیز تھا جس پر حوروں کے دل قربان تھے۔ آپ رضہ کا اصل جہیز تو وہ اعلی تربیت تھی، وہ اوصافِ مبارکہ تھے جو آپ رضہ کو سرکارِ دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کے فیضان کی بدولت حاصل ہوئی 

Tuesday, 26 August 2014

Home » Class XI » XI Urdu » ابنِ انشائ



ابنِ انشائ ایک تعارف
ابنِ انشاءشاعر بھی ہیں‘ ادیب بھی۔ انہوں نے غزلیں‘ نظمیں اور گیت لکھے۔ شاعری میں ان کا ایک مخصوص انداز ہے۔ وہ کبھی کبیرداس کا لہجہ اختیار کرتے ہیں اور انسان دوستی کا پرچار کرتے ہوئے نظر آتے ہیں اور ایک انسان کو دوسرے انسان سے محبت کا سبق دیتے ہیں۔ کہیں اپنے اشعار میں زندگی کی اداسیوں ‘ محرومیوں اور دکھوں کا میرتقی میر کی طرح اظہار کرتے ہیں اور کہیں نظیر اکبر آبادی کی طرح علاقائی اور عوامی انداز اختیار کرتی ہیں اور بڑی سادگی‘ روانی اور عوامی زبان میں عوام کے احساس کو اردو ادب کا جامہ پہناتے ہیں۔
نثر کے میدان میں انہوں نے طنز نگاری کا انداز اختیار کیا۔ طنز میں مزاح کی آمیزش نے ان کی تحریروں کو زیادہ پر اثر بنایا دیا۔ عوام سے قریب ہونے کے لئے انہوں نے اخبارات میں کالم نویسی کا آغاز کیا‘ سفرنامے لکھے‘ اس طرح اپنے مشاہدات اور تجربات کو طنز و مزاح کے پیرائے میں بیان کرکے شہرت حاصل کی۔ اردو ادب کی ان مختلف اصناف میں ابنِ انشاءنے بڑا نام کمایا۔ طبیعت کی جولانی اور شگفتگی‘ مزاج کی حس لطافت و ظرافت اور طنز کی تراش و خراش‘ غرضیکہ سب ہی کچھ ان کی تحریروں سے نمایاں ہے۔
تصانیف
شعری کلام
  • چاند نگر ( پہلا مجموعہ
  • اس بستی کے اک کوچے میں دوسرا مجموعہ
  • چینی نظمیں
نثری تصانیف
  • اردو کی آخری کتاب
  • خمار گندم
  • چلتے ہو تو چین کو چلئے
  • آوارہ گرد کی ڈائری
  • دنیا گول ہے
  • ابنِ بطوطہ کے تعاقب میں
طرزِ تحریر کی خصوصیات
ابنِ انشاءکے طرزِ تحریر کی نمایاں خصوصیات ذیل میں درج ہیں۔
(۱) تسلسلِ مشاہدہ
سفرنامہ چونکہ چشم دیدواقعات پر مشتمل ہوتا ہے اس لئے اس میں شروع سے آخر تک تسلسل کا ہونا ضروری ہے ۔ ابنِ انشاءکے سفرناموں میں یہ خوبی نظر آتی ہے کہ وہ اپنے مشاہدات کو باہم گڈمڈ نہیں کرتے وہ بڑے سلیقے سے مختلف وقعات کو ایک کڑی میں پروتے ہیں۔ ہر مشاہدہ کو علیحدہ علیحدہ بیان کرتے ہیں ۔ وہ تسلسل کے ساتھ ایک منظر کے بعد دوسرامنظر سامنے لاتے ہیں۔ اس طرح ان کا سفرنامہ مشاہدات اور تجربات کا ایک رنگین دفتر بن جاتا ہے۔ وہ تیکھے طنز اور شائستہ مسکراہٹوں سے اپنی تحریر کو اور زیادہ پر اثر بنادیتے ہیں۔
(۲) طنز و مزاح کی آمیزش
ابنِ انشاءاپنی تحریروں میں طنز و مزاح کو بڑے دلکش پیرائے میں استعمال کرنے کا فن جانتے ہیں اس لئے ان کے سفرناموں میں طنزومزاح کی آمیزش سے دلچسپی اور شگفتگی پیدا ہو گئی ہے۔ وہ جملوں اور فقروں میں طنز کی کیفیت شامل کرکے واقعات کے تانے بانے کو اس طرح ترتیب دیتے ہیں کہ قاری کا انہماک بڑھتا چلا جاتا ہے اور پھر مزاح کی باتیں مان کر اور پر لطف اور دلکش بنا دیتی ہے۔
(۳) مشاہدات میں قاری کی شمولیت
یوں تو سفرنامہ ذاتی مشاہدات اور تجربات کو تحریر کرنے کا نام ہے لیکن سفرنامہ کی یہ خوبی ہوتی ہے کہ لکھنے والا اپنے مشاہدات کو اس طرح پیش کرے کہ قاری کی نگاہوں کے سامنے بھی وہ مناظر آجائیں اور وہ بھی خود کو ہمسفر محسوس کرے۔ انشاءکے سفرناموں میں خصوصیت موجود ہے۔ پہلے جو سفرنامے لکھے گئے ان میں مشاہدات و تجربات کے برعکس واقعات کا بیان ہواکرتے تھا لیکن انشاءکے سفر ناموں میں ان کے مشاہدے اس کے اثرات اور تجربات کی کرنیں پھوٹتی ہیں۔ وہ آنکھ بند کرکے سفر نہیں کرتے بلکہ کھلی آنکھوں سے جذبات و احساسات کو بیدار کرکے چیزوں کو دیکھتے اور ان کا تجزیہ کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ قاری پوری سفر میں ان کا ہمسفر ہوتا ہے اور جو کچھ وہ محسوس کرتے ہیں وہی قاری بھی محسوس کرتا ہے۔
(۴) منظر کشی
سفرنامے کی ایک خوبی یہ بھی ہے کہ واقعات کے بیان کے ساتھ ماحول کی منظرکشی بھی کی جائے جو کچھ دیکھاجائے۔ کیونکہ کائنات میں ہر طرف فطرت کے مناظر پھیلے ہوئے ہیں۔ ان کاپر اثر بیان دل و دماغ کو متاثر کرتا ہے۔ وہ مناظر کی اس طرح تصویر کشی کرتے ہیں کہ کوئی بات رہ نہیں جاتی اور جس منظر سے کوئی خاص تاثر پیدا کرنا ہوتا ہے تو وہ اپنے مخصوص انداز اور تخیل کی رنگ آمیزی سی اسے اور بھی پر اثر اور نمایاں کرکے پیش کرتے ہیں اور قاری کو یوں محسوس ہوتا ہے گویا وہ بھی اس منظر کو دیکھ رہا ہے یا خود وہاں موجود ہے۔
(۵) طنز و مزاح میں متانت
ابنِ انشاءچونکہ اپنی تحریروں کو طنز و مزاح سے پر اثر بنانے کے عادی ہیں۔ اس لئے ان کی ہر تحریر میں ان کا یہ رنگ جھلکتا ہے۔ ان کے سفرنامے ان کے اس اندازِ تحریر کی واضح مثالیں ہیں۔ طنز و مزاح بڑے شعور اور سلیقے کا کام ہے ورنہ تحریر میں پھکڑ پن پیدا ہونے کا خطرہ رہتا ہے۔ متانت اور سنجیدگی کے ساتھ طنز و مزاح کے میدان میں قدم رکھنا ہر ایک کے بس کی بات نہیں۔ اس میں بڑے شعور اور سلیقے کی ضرورت ہوتی ہے کیونکہ اس کے ذریعے ایک طرف لوگوں کو ان کی خامیوں اور کمزوریوں کو دکھانا مقصود ہوتا ہے تو دوسری طرف لوگوں کے شعور کو بیدار کرنا ہوتا ہے جس میں تضحیک نہیں اصلاح کا پہلو نمایاں ہوتا ہے۔ چنانچہ ایک کامیاب مزاح نگار کا کام یہی ہے کہ وہ ہنسی ہنسی میں طنز کے ہلکے نشتر سے زخموں کو کریدے اور اس طرح اپنا مافی اضمیر بیان کردے کہ بات بھی بری نہ لگے اور دل پر بھی اثر کرجائے۔ ابنِ انشاءکے یہاں طنز و مزاح کی یہی خوبی پوری آب وتاب کے ساتھ جلوہ گر ہے۔ ان کے مزاج کی شگفتگی اور لہجے کی متانت کے سبب اس کے یہاںمزاح کی کیفیت زیرِ لب تبسم تک رہتی ہے قہقہوں میں تبدیل نہیں ہوتی۔ یہی صورت طنز کی ہے۔ وہ فقروں اور جملوں کو کچھ اس طرح ترتیب دیتے ہےں کہ ان میں چھپے ہوئے طنز کو معلوم کرکے قاری اول اپنے دل و دماغ کے نہاں خانوں میں لطافت اور شگفتگی محسوس کرتا ہے لیکن بعد میں اس کی کاٹ کا احساس کرکے تڑپ اٹھتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں کہنا چاہئے وہ نہایت متانت اورسنجیدگی کے ساتھ طنز و مزاح کی فضا قائم کرکے اپنے مقصد تحریر کو نمایاں کرتے ہیں اور اسی ہنر مندی نے انہیں بطور ایک کامیاب طنز و مزاح نگار پیش کیا ہے۔
(۶) زبان و بیان
ابنِ انشاءکی زبان سادہ اور عام فہم ہے وہ نہایت سادہ انداز میں اپنی بات بیان کردیتے ہیں۔ کیونکہ ان کے پیشِ نظر عام قاری ہے جو ان کی تحریروں کو پڑھے گا۔ اس لئے وہ اس بات کا بطور خاص خیال رکھتے ہیں کہ بات سادہ اور پر اثر انداز میں کہی جائے۔ ان کی منفرد تحریر خود منہ سے بولتی ہے کہ اس کے خالق ابنِ انشاءہیں۔ اپنے اسی اسلوبِ نگارش کی وجہ سے انہوں نے موجودہ دور کے ادب میں اپنے لئے ایک باوقار مقام بنایا ہے۔ بحیثیت مجموعی ان کی تحریروں میں طنز و مزاح بھی ہے۔ لطف و اثر بھی‘ شگفتگی بھی ہے۔ دلکشی بھی‘ جذبات و احساسات بھی ہیں تو معاشرت و ثقافت پر اظہار ِ خیال بھی۔ یہی سب چیزیں ہیں جو انہیں ایک منفرد منفرد نثرنگار اور شاعر کی حیثیت سے ادبی دنیا میں پیش کرتی ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ ان کی شاعری اور مضامین آج بھی عوام اور خواص میں مقبول ہیں۔
- See more at: http://www.guesspapers.net/5914/%D8%A7%D8%A8%D9%86%D9%90-%D8%A7%D9%86%D8%B4%D8%A7%D8%A6/#sthash.mpvDWUBp.dpuf
Home » Class XI » XI Urdu » ابنِ انشائ



ابنِ انشائ ایک تعارف
ابنِ انشاءشاعر بھی ہیں‘ ادیب بھی۔ انہوں نے غزلیں‘ نظمیں اور گیت لکھے۔ شاعری میں ان کا ایک مخصوص انداز ہے۔ وہ کبھی کبیرداس کا لہجہ اختیار کرتے ہیں اور انسان دوستی کا پرچار کرتے ہوئے نظر آتے ہیں اور ایک انسان کو دوسرے انسان سے محبت کا سبق دیتے ہیں۔ کہیں اپنے اشعار میں زندگی کی اداسیوں ‘ محرومیوں اور دکھوں کا میرتقی میر کی طرح اظہار کرتے ہیں اور کہیں نظیر اکبر آبادی کی طرح علاقائی اور عوامی انداز اختیار کرتی ہیں اور بڑی سادگی‘ روانی اور عوامی زبان میں عوام کے احساس کو اردو ادب کا جامہ پہناتے ہیں۔
نثر کے میدان میں انہوں نے طنز نگاری کا انداز اختیار کیا۔ طنز میں مزاح کی آمیزش نے ان کی تحریروں کو زیادہ پر اثر بنایا دیا۔ عوام سے قریب ہونے کے لئے انہوں نے اخبارات میں کالم نویسی کا آغاز کیا‘ سفرنامے لکھے‘ اس طرح اپنے مشاہدات اور تجربات کو طنز و مزاح کے پیرائے میں بیان کرکے شہرت حاصل کی۔ اردو ادب کی ان مختلف اصناف میں ابنِ انشاءنے بڑا نام کمایا۔ طبیعت کی جولانی اور شگفتگی‘ مزاج کی حس لطافت و ظرافت اور طنز کی تراش و خراش‘ غرضیکہ سب ہی کچھ ان کی تحریروں سے نمایاں ہے۔
تصانیف
شعری کلام
  • چاند نگر ( پہلا مجموعہ
  • اس بستی کے اک کوچے میں دوسرا مجموعہ
  • چینی نظمیں
نثری تصانیف
  • اردو کی آخری کتاب
  • خمار گندم
  • چلتے ہو تو چین کو چلئے
  • آوارہ گرد کی ڈائری
  • دنیا گول ہے
  • ابنِ بطوطہ کے تعاقب میں
طرزِ تحریر کی خصوصیات
ابنِ انشاءکے طرزِ تحریر کی نمایاں خصوصیات ذیل میں درج ہیں۔
(۱) تسلسلِ مشاہدہ
سفرنامہ چونکہ چشم دیدواقعات پر مشتمل ہوتا ہے اس لئے اس میں شروع سے آخر تک تسلسل کا ہونا ضروری ہے ۔ ابنِ انشاءکے سفرناموں میں یہ خوبی نظر آتی ہے کہ وہ اپنے مشاہدات کو باہم گڈمڈ نہیں کرتے وہ بڑے سلیقے سے مختلف وقعات کو ایک کڑی میں پروتے ہیں۔ ہر مشاہدہ کو علیحدہ علیحدہ بیان کرتے ہیں ۔ وہ تسلسل کے ساتھ ایک منظر کے بعد دوسرامنظر سامنے لاتے ہیں۔ اس طرح ان کا سفرنامہ مشاہدات اور تجربات کا ایک رنگین دفتر بن جاتا ہے۔ وہ تیکھے طنز اور شائستہ مسکراہٹوں سے اپنی تحریر کو اور زیادہ پر اثر بنادیتے ہیں۔
(۲) طنز و مزاح کی آمیزش
ابنِ انشاءاپنی تحریروں میں طنز و مزاح کو بڑے دلکش پیرائے میں استعمال کرنے کا فن جانتے ہیں اس لئے ان کے سفرناموں میں طنزومزاح کی آمیزش سے دلچسپی اور شگفتگی پیدا ہو گئی ہے۔ وہ جملوں اور فقروں میں طنز کی کیفیت شامل کرکے واقعات کے تانے بانے کو اس طرح ترتیب دیتے ہیں کہ قاری کا انہماک بڑھتا چلا جاتا ہے اور پھر مزاح کی باتیں مان کر اور پر لطف اور دلکش بنا دیتی ہے۔
(۳) مشاہدات میں قاری کی شمولیت
یوں تو سفرنامہ ذاتی مشاہدات اور تجربات کو تحریر کرنے کا نام ہے لیکن سفرنامہ کی یہ خوبی ہوتی ہے کہ لکھنے والا اپنے مشاہدات کو اس طرح پیش کرے کہ قاری کی نگاہوں کے سامنے بھی وہ مناظر آجائیں اور وہ بھی خود کو ہمسفر محسوس کرے۔ انشاءکے سفرناموں میں خصوصیت موجود ہے۔ پہلے جو سفرنامے لکھے گئے ان میں مشاہدات و تجربات کے برعکس واقعات کا بیان ہواکرتے تھا لیکن انشاءکے سفر ناموں میں ان کے مشاہدے اس کے اثرات اور تجربات کی کرنیں پھوٹتی ہیں۔ وہ آنکھ بند کرکے سفر نہیں کرتے بلکہ کھلی آنکھوں سے جذبات و احساسات کو بیدار کرکے چیزوں کو دیکھتے اور ان کا تجزیہ کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ قاری پوری سفر میں ان کا ہمسفر ہوتا ہے اور جو کچھ وہ محسوس کرتے ہیں وہی قاری بھی محسوس کرتا ہے۔
(۴) منظر کشی
سفرنامے کی ایک خوبی یہ بھی ہے کہ واقعات کے بیان کے ساتھ ماحول کی منظرکشی بھی کی جائے جو کچھ دیکھاجائے۔ کیونکہ کائنات میں ہر طرف فطرت کے مناظر پھیلے ہوئے ہیں۔ ان کاپر اثر بیان دل و دماغ کو متاثر کرتا ہے۔ وہ مناظر کی اس طرح تصویر کشی کرتے ہیں کہ کوئی بات رہ نہیں جاتی اور جس منظر سے کوئی خاص تاثر پیدا کرنا ہوتا ہے تو وہ اپنے مخصوص انداز اور تخیل کی رنگ آمیزی سی اسے اور بھی پر اثر اور نمایاں کرکے پیش کرتے ہیں اور قاری کو یوں محسوس ہوتا ہے گویا وہ بھی اس منظر کو دیکھ رہا ہے یا خود وہاں موجود ہے۔
(۵) طنز و مزاح میں متانت
ابنِ انشاءچونکہ اپنی تحریروں کو طنز و مزاح سے پر اثر بنانے کے عادی ہیں۔ اس لئے ان کی ہر تحریر میں ان کا یہ رنگ جھلکتا ہے۔ ان کے سفرنامے ان کے اس اندازِ تحریر کی واضح مثالیں ہیں۔ طنز و مزاح بڑے شعور اور سلیقے کا کام ہے ورنہ تحریر میں پھکڑ پن پیدا ہونے کا خطرہ رہتا ہے۔ متانت اور سنجیدگی کے ساتھ طنز و مزاح کے میدان میں قدم رکھنا ہر ایک کے بس کی بات نہیں۔ اس میں بڑے شعور اور سلیقے کی ضرورت ہوتی ہے کیونکہ اس کے ذریعے ایک طرف لوگوں کو ان کی خامیوں اور کمزوریوں کو دکھانا مقصود ہوتا ہے تو دوسری طرف لوگوں کے شعور کو بیدار کرنا ہوتا ہے جس میں تضحیک نہیں اصلاح کا پہلو نمایاں ہوتا ہے۔ چنانچہ ایک کامیاب مزاح نگار کا کام یہی ہے کہ وہ ہنسی ہنسی میں طنز کے ہلکے نشتر سے زخموں کو کریدے اور اس طرح اپنا مافی اضمیر بیان کردے کہ بات بھی بری نہ لگے اور دل پر بھی اثر کرجائے۔ ابنِ انشاءکے یہاں طنز و مزاح کی یہی خوبی پوری آب وتاب کے ساتھ جلوہ گر ہے۔ ان کے مزاج کی شگفتگی اور لہجے کی متانت کے سبب اس کے یہاںمزاح کی کیفیت زیرِ لب تبسم تک رہتی ہے قہقہوں میں تبدیل نہیں ہوتی۔ یہی صورت طنز کی ہے۔ وہ فقروں اور جملوں کو کچھ اس طرح ترتیب دیتے ہےں کہ ان میں چھپے ہوئے طنز کو معلوم کرکے قاری اول اپنے دل و دماغ کے نہاں خانوں میں لطافت اور شگفتگی محسوس کرتا ہے لیکن بعد میں اس کی کاٹ کا احساس کرکے تڑپ اٹھتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں کہنا چاہئے وہ نہایت متانت اورسنجیدگی کے ساتھ طنز و مزاح کی فضا قائم کرکے اپنے مقصد تحریر کو نمایاں کرتے ہیں اور اسی ہنر مندی نے انہیں بطور ایک کامیاب طنز و مزاح نگار پیش کیا ہے۔
(۶) زبان و بیان
ابنِ انشاءکی زبان سادہ اور عام فہم ہے وہ نہایت سادہ انداز میں اپنی بات بیان کردیتے ہیں۔ کیونکہ ان کے پیشِ نظر عام قاری ہے جو ان کی تحریروں کو پڑھے گا۔ اس لئے وہ اس بات کا بطور خاص خیال رکھتے ہیں کہ بات سادہ اور پر اثر انداز میں کہی جائے۔ ان کی منفرد تحریر خود منہ سے بولتی ہے کہ اس کے خالق ابنِ انشاءہیں۔ اپنے اسی اسلوبِ نگارش کی وجہ سے انہوں نے موجودہ دور کے ادب میں اپنے لئے ایک باوقار مقام بنایا ہے۔ بحیثیت مجموعی ان کی تحریروں میں طنز و مزاح بھی ہے۔ لطف و اثر بھی‘ شگفتگی بھی ہے۔ دلکشی بھی‘ جذبات و احساسات بھی ہیں تو معاشرت و ثقافت پر اظہار ِ خیال بھی۔ یہی سب چیزیں ہیں جو انہیں ایک منفرد منفرد نثرنگار اور شاعر کی حیثیت سے ادبی دنیا میں پیش کرتی ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ ان کی شاعری اور مضامین آج بھی عوام اور خواص میں مقبول ہیں۔
- See more at: http://www.guesspapers.net/5914/%D8%A7%D8%A8%D9%86%D9%90-%D8%A7%D9%86%D8%B4%D8%A7%D8%A6/#sthash.mpvDWUBp.dpuf
Home » Class XI » XI Urdu » ابنِ انشائ



ابنِ انشائ ایک تعارف
ابنِ انشاءشاعر بھی ہیں‘ ادیب بھی۔ انہوں نے غزلیں‘ نظمیں اور گیت لکھے۔ شاعری میں ان کا ایک مخصوص انداز ہے۔ وہ کبھی کبیرداس کا لہجہ اختیار کرتے ہیں اور انسان دوستی کا پرچار کرتے ہوئے نظر آتے ہیں اور ایک انسان کو دوسرے انسان سے محبت کا سبق دیتے ہیں۔ کہیں اپنے اشعار میں زندگی کی اداسیوں ‘ محرومیوں اور دکھوں کا میرتقی میر کی طرح اظہار کرتے ہیں اور کہیں نظیر اکبر آبادی کی طرح علاقائی اور عوامی انداز اختیار کرتی ہیں اور بڑی سادگی‘ روانی اور عوامی زبان میں عوام کے احساس کو اردو ادب کا جامہ پہناتے ہیں۔
نثر کے میدان میں انہوں نے طنز نگاری کا انداز اختیار کیا۔ طنز میں مزاح کی آمیزش نے ان کی تحریروں کو زیادہ پر اثر بنایا دیا۔ عوام سے قریب ہونے کے لئے انہوں نے اخبارات میں کالم نویسی کا آغاز کیا‘ سفرنامے لکھے‘ اس طرح اپنے مشاہدات اور تجربات کو طنز و مزاح کے پیرائے میں بیان کرکے شہرت حاصل کی۔ اردو ادب کی ان مختلف اصناف میں ابنِ انشاءنے بڑا نام کمایا۔ طبیعت کی جولانی اور شگفتگی‘ مزاج کی حس لطافت و ظرافت اور طنز کی تراش و خراش‘ غرضیکہ سب ہی کچھ ان کی تحریروں سے نمایاں ہے۔
تصانیف
شعری کلام
  • چاند نگر ( پہلا مجموعہ
  • اس بستی کے اک کوچے میں دوسرا مجموعہ
  • چینی نظمیں
نثری تصانیف
  • اردو کی آخری کتاب
  • خمار گندم
  • چلتے ہو تو چین کو چلئے
  • آوارہ گرد کی ڈائری
  • دنیا گول ہے
  • ابنِ بطوطہ کے تعاقب میں
طرزِ تحریر کی خصوصیات
ابنِ انشاءکے طرزِ تحریر کی نمایاں خصوصیات ذیل میں درج ہیں۔
(۱) تسلسلِ مشاہدہ
سفرنامہ چونکہ چشم دیدواقعات پر مشتمل ہوتا ہے اس لئے اس میں شروع سے آخر تک تسلسل کا ہونا ضروری ہے ۔ ابنِ انشاءکے سفرناموں میں یہ خوبی نظر آتی ہے کہ وہ اپنے مشاہدات کو باہم گڈمڈ نہیں کرتے وہ بڑے سلیقے سے مختلف وقعات کو ایک کڑی میں پروتے ہیں۔ ہر مشاہدہ کو علیحدہ علیحدہ بیان کرتے ہیں ۔ وہ تسلسل کے ساتھ ایک منظر کے بعد دوسرامنظر سامنے لاتے ہیں۔ اس طرح ان کا سفرنامہ مشاہدات اور تجربات کا ایک رنگین دفتر بن جاتا ہے۔ وہ تیکھے طنز اور شائستہ مسکراہٹوں سے اپنی تحریر کو اور زیادہ پر اثر بنادیتے ہیں۔
(۲) طنز و مزاح کی آمیزش
ابنِ انشاءاپنی تحریروں میں طنز و مزاح کو بڑے دلکش پیرائے میں استعمال کرنے کا فن جانتے ہیں اس لئے ان کے سفرناموں میں طنزومزاح کی آمیزش سے دلچسپی اور شگفتگی پیدا ہو گئی ہے۔ وہ جملوں اور فقروں میں طنز کی کیفیت شامل کرکے واقعات کے تانے بانے کو اس طرح ترتیب دیتے ہیں کہ قاری کا انہماک بڑھتا چلا جاتا ہے اور پھر مزاح کی باتیں مان کر اور پر لطف اور دلکش بنا دیتی ہے۔
(۳) مشاہدات میں قاری کی شمولیت
یوں تو سفرنامہ ذاتی مشاہدات اور تجربات کو تحریر کرنے کا نام ہے لیکن سفرنامہ کی یہ خوبی ہوتی ہے کہ لکھنے والا اپنے مشاہدات کو اس طرح پیش کرے کہ قاری کی نگاہوں کے سامنے بھی وہ مناظر آجائیں اور وہ بھی خود کو ہمسفر محسوس کرے۔ انشاءکے سفرناموں میں خصوصیت موجود ہے۔ پہلے جو سفرنامے لکھے گئے ان میں مشاہدات و تجربات کے برعکس واقعات کا بیان ہواکرتے تھا لیکن انشاءکے سفر ناموں میں ان کے مشاہدے اس کے اثرات اور تجربات کی کرنیں پھوٹتی ہیں۔ وہ آنکھ بند کرکے سفر نہیں کرتے بلکہ کھلی آنکھوں سے جذبات و احساسات کو بیدار کرکے چیزوں کو دیکھتے اور ان کا تجزیہ کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ قاری پوری سفر میں ان کا ہمسفر ہوتا ہے اور جو کچھ وہ محسوس کرتے ہیں وہی قاری بھی محسوس کرتا ہے۔
(۴) منظر کشی
سفرنامے کی ایک خوبی یہ بھی ہے کہ واقعات کے بیان کے ساتھ ماحول کی منظرکشی بھی کی جائے جو کچھ دیکھاجائے۔ کیونکہ کائنات میں ہر طرف فطرت کے مناظر پھیلے ہوئے ہیں۔ ان کاپر اثر بیان دل و دماغ کو متاثر کرتا ہے۔ وہ مناظر کی اس طرح تصویر کشی کرتے ہیں کہ کوئی بات رہ نہیں جاتی اور جس منظر سے کوئی خاص تاثر پیدا کرنا ہوتا ہے تو وہ اپنے مخصوص انداز اور تخیل کی رنگ آمیزی سی اسے اور بھی پر اثر اور نمایاں کرکے پیش کرتے ہیں اور قاری کو یوں محسوس ہوتا ہے گویا وہ بھی اس منظر کو دیکھ رہا ہے یا خود وہاں موجود ہے۔
(۵) طنز و مزاح میں متانت
ابنِ انشاءچونکہ اپنی تحریروں کو طنز و مزاح سے پر اثر بنانے کے عادی ہیں۔ اس لئے ان کی ہر تحریر میں ان کا یہ رنگ جھلکتا ہے۔ ان کے سفرنامے ان کے اس اندازِ تحریر کی واضح مثالیں ہیں۔ طنز و مزاح بڑے شعور اور سلیقے کا کام ہے ورنہ تحریر میں پھکڑ پن پیدا ہونے کا خطرہ رہتا ہے۔ متانت اور سنجیدگی کے ساتھ طنز و مزاح کے میدان میں قدم رکھنا ہر ایک کے بس کی بات نہیں۔ اس میں بڑے شعور اور سلیقے کی ضرورت ہوتی ہے کیونکہ اس کے ذریعے ایک طرف لوگوں کو ان کی خامیوں اور کمزوریوں کو دکھانا مقصود ہوتا ہے تو دوسری طرف لوگوں کے شعور کو بیدار کرنا ہوتا ہے جس میں تضحیک نہیں اصلاح کا پہلو نمایاں ہوتا ہے۔ چنانچہ ایک کامیاب مزاح نگار کا کام یہی ہے کہ وہ ہنسی ہنسی میں طنز کے ہلکے نشتر سے زخموں کو کریدے اور اس طرح اپنا مافی اضمیر بیان کردے کہ بات بھی بری نہ لگے اور دل پر بھی اثر کرجائے۔ ابنِ انشاءکے یہاں طنز و مزاح کی یہی خوبی پوری آب وتاب کے ساتھ جلوہ گر ہے۔ ان کے مزاج کی شگفتگی اور لہجے کی متانت کے سبب اس کے یہاںمزاح کی کیفیت زیرِ لب تبسم تک رہتی ہے قہقہوں میں تبدیل نہیں ہوتی۔ یہی صورت طنز کی ہے۔ وہ فقروں اور جملوں کو کچھ اس طرح ترتیب دیتے ہےں کہ ان میں چھپے ہوئے طنز کو معلوم کرکے قاری اول اپنے دل و دماغ کے نہاں خانوں میں لطافت اور شگفتگی محسوس کرتا ہے لیکن بعد میں اس کی کاٹ کا احساس کرکے تڑپ اٹھتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں کہنا چاہئے وہ نہایت متانت اورسنجیدگی کے ساتھ طنز و مزاح کی فضا قائم کرکے اپنے مقصد تحریر کو نمایاں کرتے ہیں اور اسی ہنر مندی نے انہیں بطور ایک کامیاب طنز و مزاح نگار پیش کیا ہے۔
(۶) زبان و بیان
ابنِ انشاءکی زبان سادہ اور عام فہم ہے وہ نہایت سادہ انداز میں اپنی بات بیان کردیتے ہیں۔ کیونکہ ان کے پیشِ نظر عام قاری ہے جو ان کی تحریروں کو پڑھے گا۔ اس لئے وہ اس بات کا بطور خاص خیال رکھتے ہیں کہ بات سادہ اور پر اثر انداز میں کہی جائے۔ ان کی منفرد تحریر خود منہ سے بولتی ہے کہ اس کے خالق ابنِ انشاءہیں۔ اپنے اسی اسلوبِ نگارش کی وجہ سے انہوں نے موجودہ دور کے ادب میں اپنے لئے ایک باوقار مقام بنایا ہے۔ بحیثیت مجموعی ان کی تحریروں میں طنز و مزاح بھی ہے۔ لطف و اثر بھی‘ شگفتگی بھی ہے۔ دلکشی بھی‘ جذبات و احساسات بھی ہیں تو معاشرت و ثقافت پر اظہار ِ خیال بھی۔ یہی سب چیزیں ہیں جو انہیں ایک منفرد منفرد نثرنگار اور شاعر کی حیثیت سے ادبی دنیا میں پیش کرتی ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ ان کی شاعری اور مضامین آج بھی عوام اور خواص میں مقبول ہیں۔
- See more at: http://www.guesspapers.net/5914/%D8%A7%D8%A8%D9%86%D9%90-%D8%A7%D9%86%D8%B4%D8%A7%D8%A6/#sthash.mpvDWUBp.dpuf