Monday, 25 August 2014



ابنِ انشائ

ایک تعارف
ابنِ انشاءشاعر بھی ہیں‘ ادیب بھی۔ انہوں نے غزلیں‘ نظمیں اور گیت لکھے۔ شاعری میں ان کا ایک مخصوص انداز ہے۔ وہ کبھی کبیرداس کا لہجہ اختیار کرتے ہیں اور انسان دوستی کا پرچار کرتے ہوئے نظر آتے ہیں اور ایک انسان کو دوسرے انسان سے محبت کا سبق دیتے ہیں۔ کہیں اپنے اشعار میں زندگی کی اداسیوں ‘ محرومیوں اور دکھوں کا میرتقی میر کی طرح اظہار کرتے ہیں اور کہیں نظیر اکبر آبادی کی طرح علاقائی اور عوامی انداز اختیار کرتی ہیں اور بڑی سادگی‘ روانی اور عوامی زبان میں عوام کے احساس کو اردو ادب کا جامہ پہناتے ہیں۔
نثر کے میدان میں انہوں نے طنز نگاری کا انداز اختیار کیا۔ طنز میں مزاح کی آمیزش نے ان کی تحریروں کو زیادہ پر اثر بنایا دیا۔ عوام سے قریب ہونے کے لئے انہوں نے اخبارات میں کالم نویسی کا آغاز کیا‘ سفرنامے لکھے‘ اس طرح اپنے مشاہدات اور تجربات کو طنز و مزاح کے پیرائے میں بیان کرکے شہرت حاصل کی۔ اردو ادب کی ان مختلف اصناف میں ابنِ انشاءنے بڑا نام کمایا۔ طبیعت کی جولانی اور شگفتگی‘ مزاج کی حس لطافت و ظرافت اور طنز کی تراش و خراش‘ غرضیکہ سب ہی کچھ ان کی تحریروں سے نمایاں ہے۔
تصانیف
شعری کلام
  • چاند نگر ( پہلا مجموعہ
  • اس بستی کے اک کوچے میں دوسرا مجموعہ
  • چینی نظمیں
نثری تصانیف
  • اردو کی آخری کتاب
  • خمار گندم
  • چلتے ہو تو چین کو چلئے
  • آوارہ گرد کی ڈائری
  • دنیا گول ہے
  • ابنِ بطوطہ کے تعاقب میں
طرزِ تحریر کی خصوصیات
ابنِ انشاءکے طرزِ تحریر کی نمایاں خصوصیات ذیل میں درج ہیں۔
(۱) تسلسلِ مشاہدہ
سفرنامہ چونکہ چشم دیدواقعات پر مشتمل ہوتا ہے اس لئے اس میں شروع سے آخر تک تسلسل کا ہونا ضروری ہے ۔ ابنِ انشاءکے سفرناموں میں یہ خوبی نظر آتی ہے کہ وہ اپنے مشاہدات کو باہم گڈمڈ نہیں کرتے وہ بڑے سلیقے سے مختلف وقعات کو ایک کڑی میں پروتے ہیں۔ ہر مشاہدہ کو علیحدہ علیحدہ بیان کرتے ہیں ۔ وہ تسلسل کے ساتھ ایک منظر کے بعد دوسرامنظر سامنے لاتے ہیں۔ اس طرح ان کا سفرنامہ مشاہدات اور تجربات کا ایک رنگین دفتر بن جاتا ہے۔ وہ تیکھے طنز اور شائستہ مسکراہٹوں سے اپنی تحریر کو اور زیادہ پر اثر بنادیتے ہیں۔
(۲) طنز و مزاح کی آمیزش
ابنِ انشاءاپنی تحریروں میں طنز و مزاح کو بڑے دلکش پیرائے میں استعمال کرنے کا فن جانتے ہیں اس لئے ان کے سفرناموں میں طنزومزاح کی آمیزش سے دلچسپی اور شگفتگی پیدا ہو گئی ہے۔ وہ جملوں اور فقروں میں طنز کی کیفیت شامل کرکے واقعات کے تانے بانے کو اس طرح ترتیب دیتے ہیں کہ قاری کا انہماک بڑھتا چلا جاتا ہے اور پھر مزاح کی باتیں مان کر اور پر لطف اور دلکش بنا دیتی ہے۔
(۳) مشاہدات میں قاری کی شمولیت
یوں تو سفرنامہ ذاتی مشاہدات اور تجربات کو تحریر کرنے کا نام ہے لیکن سفرنامہ کی یہ خوبی ہوتی ہے کہ لکھنے والا اپنے مشاہدات کو اس طرح پیش کرے کہ قاری کی نگاہوں کے سامنے بھی وہ مناظر آجائیں اور وہ بھی خود کو ہمسفر محسوس کرے۔ انشاءکے سفرناموں میں خصوصیت موجود ہے۔ پہلے جو سفرنامے لکھے گئے ان میں مشاہدات و تجربات کے برعکس واقعات کا بیان ہواکرتے تھا لیکن انشاءکے سفر ناموں میں ان کے مشاہدے اس کے اثرات اور تجربات کی کرنیں پھوٹتی ہیں۔ وہ آنکھ بند کرکے سفر نہیں کرتے بلکہ کھلی آنکھوں سے جذبات و احساسات کو بیدار کرکے چیزوں کو دیکھتے اور ان کا تجزیہ کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ قاری پوری سفر میں ان کا ہمسفر ہوتا ہے اور جو کچھ وہ محسوس کرتے ہیں وہی قاری بھی محسوس کرتا ہے۔
(۴) منظر کشی
سفرنامے کی ایک خوبی یہ بھی ہے کہ واقعات کے بیان کے ساتھ ماحول کی منظرکشی بھی کی جائے جو کچھ دیکھاجائے۔ کیونکہ کائنات میں ہر طرف فطرت کے مناظر پھیلے ہوئے ہیں۔ ان کاپر اثر بیان دل و دماغ کو متاثر کرتا ہے۔ وہ مناظر کی اس طرح تصویر کشی کرتے ہیں کہ کوئی بات رہ نہیں جاتی اور جس منظر سے کوئی خاص تاثر پیدا کرنا ہوتا ہے تو وہ اپنے مخصوص انداز اور تخیل کی رنگ آمیزی سی اسے اور بھی پر اثر اور نمایاں کرکے پیش کرتے ہیں اور قاری کو یوں محسوس ہوتا ہے گویا وہ بھی اس منظر کو دیکھ رہا ہے یا خود وہاں موجود ہے۔
(۵) طنز و مزاح میں متانت
ابنِ انشاءچونکہ اپنی تحریروں کو طنز و مزاح سے پر اثر بنانے کے عادی ہیں۔ اس لئے ان کی ہر تحریر میں ان کا یہ رنگ جھلکتا ہے۔ ان کے سفرنامے ان کے اس اندازِ تحریر کی واضح مثالیں ہیں۔ طنز و مزاح بڑے شعور اور سلیقے کا کام ہے ورنہ تحریر میں پھکڑ پن پیدا ہونے کا خطرہ رہتا ہے۔ متانت اور سنجیدگی کے ساتھ طنز و مزاح کے میدان میں قدم رکھنا ہر ایک کے بس کی بات نہیں۔ اس میں بڑے شعور اور سلیقے کی ضرورت ہوتی ہے کیونکہ اس کے ذریعے ایک طرف لوگوں کو ان کی خامیوں اور کمزوریوں کو دکھانا مقصود ہوتا ہے تو دوسری طرف لوگوں کے شعور کو بیدار کرنا ہوتا ہے جس میں تضحیک نہیں اصلاح کا پہلو نمایاں ہوتا ہے۔ چنانچہ ایک کامیاب مزاح نگار کا کام یہی ہے کہ وہ ہنسی ہنسی میں طنز کے ہلکے نشتر سے زخموں کو کریدے اور اس طرح اپنا مافی اضمیر بیان کردے کہ بات بھی بری نہ لگے اور دل پر بھی اثر کرجائے۔ ابنِ انشاءکے یہاں طنز و مزاح کی یہی خوبی پوری آب وتاب کے ساتھ جلوہ گر ہے۔ ان کے مزاج کی شگفتگی اور لہجے کی متانت کے سبب اس کے یہاںمزاح کی کیفیت زیرِ لب تبسم تک رہتی ہے قہقہوں میں تبدیل نہیں ہوتی۔ یہی صورت طنز کی ہے۔ وہ فقروں اور جملوں کو کچھ اس طرح ترتیب دیتے ہےں کہ ان میں چھپے ہوئے طنز کو معلوم کرکے قاری اول اپنے دل و دماغ کے نہاں خانوں میں لطافت اور شگفتگی محسوس کرتا ہے لیکن بعد میں اس کی کاٹ کا احساس کرکے تڑپ اٹھتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں کہنا چاہئے وہ نہایت متانت اورسنجیدگی کے ساتھ طنز و مزاح کی فضا قائم کرکے اپنے مقصد تحریر کو نمایاں کرتے ہیں اور اسی ہنر مندی نے انہیں بطور ایک کامیاب طنز و مزاح نگار پیش کیا ہے۔
(۶) زبان و بیان
ابنِ انشاءکی زبان سادہ اور عام فہم ہے وہ نہایت سادہ انداز میں اپنی بات بیان کردیتے ہیں۔ کیونکہ ان کے پیشِ نظر عام قاری ہے جو ان کی تحریروں کو پڑھے گا۔ اس لئے وہ اس بات کا بطور خاص خیال رکھتے ہیں کہ بات سادہ اور پر اثر انداز میں کہی جائے۔ ان کی منفرد تحریر خود منہ سے بولتی ہے کہ اس کے خالق ابنِ انشاءہیں۔ اپنے اسی اسلوبِ نگارش کی وجہ سے انہوں نے موجودہ دور کے ادب میں اپنے لئے ایک باوقار مقام بنایا ہے۔ بحیثیت مجموعی ان کی تحریروں میں طنز و مزاح بھی ہے۔ لطف و اثر بھی‘ شگفتگی بھی ہے۔ دلکشی بھی‘ جذبات و احساسات بھی ہیں تو معاشرت و ثقافت پر اظہار ِ خیال بھی۔ یہی سب چیزیں ہیں جو انہیں ایک منفرد منفرد نثرنگار اور شاعر کی حیثیت سے ادبی دنیا میں پیش کرتی ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ ان کی شاعری اور مضامین آج بھی عوام اور خواص میں مقبول ہیں۔



ایک شام ماضی کی محرابوں میں

حوالہ
مندرجہ بالا اقتباس ایک شام ماضی کی محرابوں میں سے لیا گیا ہے۔ یہ سفرنامہ ابنِ انشائ نے تحریر کیا ہے۔
تعارفِ مصنف
ابن انشاءدورِ حاضر کے مشہور و معروف مزاح نگار اور کالم نگار ہیں۔ ان کے سفرنامے ان کے نثری اسلوب کے آئینہ دار ہیں۔ ان کی تحریریں سادہ‘ رواں‘ برجستہ اور پرمزاح ہوتی ہیں۔ ان کے سفرناموں کے مطالعے کے دوران ایسا محسوس ہوتا ہے گویا قاری ان کے ساتھ موجود ہے اور ان کے ساتھ ساتھ سفر کررہا ہے۔ کسی بھی موڑ پر قاری کو اجنبیت محسوس نہیں ہوتی۔
بقول ابراہیم جلیس
ابنِ انشاءعہدِ حاضر کا منفرد مزاح نگار ہے جس کے کالم اور سفرنامے اس کی پرمزاح نثرنگاری کے عکاس ہیں۔
سفرنامے کا تعارف
اپنے اس سفرنامے میں ابنِ انشاءدمشق کے حوالے سے مختلف مقامات کی سیر کا حال بیان کررہے ہیں۔ جن میں کوچہ بازار‘ مقبرے‘ مساجد اور تاریخی مقامات وغیرہ شامل ہیں۔ اس سفرنامے کے ذریعے انہوں نے قارئین کو بتانا چاہا ہے کہ ان کا ماضی کیا تھا‘ کتنا عظیم تھا‘ کس قدر جاہ حشمت سے بھرا ہوا تھا اور کس قدر بہادری اورشجاعت کے کارناموں سے پر تھا۔ انہوں نے اس طرف بھی نشاندہی کی ہے کہ اس وقت میں اور اب میں کتنا فرق ہوگیا ہے اور مسلمان کس قدر پستی میں گرگئے ہیں۔
اقتباس ۱
سامنے اس فاتح کی آرام گاہ تھی جس کے پرچم کے آگے مشرق اور مغرب سرنگوں تھے۔ جس نے یورپ کے متحدہ لشکروں کا سامنا کیا اور اپنی فتوحات اور حسنِ اخلاق کی داستانیں چھوڑ گیا۔ آج جب کہ سرزمینِ شام کے ایک کونے اور بیتِ المقدس کو غاصبوں نے دبا رکھا تھا اور فلسطین کے مہاجر صحرا میں دربدر پھر رہے تھے یہ فاتح لمبی تانے سورہا تھا۔ ہم نے کہا اے غازی! اٹھ کے اب نہیں اٹھے گا تو کب اٹھے گا کیا خوب قیامت کا بھی ہوگا کوئی دن اور؟
تشریح
مندرجہ بالا اقتباس میں مصنف اس وقت کا ذکر کررہا ہے جب وہ سلطان صلاح الدین کے مزار میں داخل ہوتا ہے۔ مصنف کہتا ہے کہ جب وہ چھوٹے دروازے سے اندر داخل ہوئے تو سامنے مسلمانوں کے عظیم فاتح سلطان صلاح الدین کی قبر تھی۔ جس میں وہ آرام فرمارہے تھے۔ مصنف کہتا ہے کہ یہ وہ عظیم‘ بے باک اور مخلص مجاہدِ دین ہے جس کی بہادری و سرفروشی کی داستانیں دنیا بھر میں پھیلی ہوئی ہیں اور جس کی عظمت کا اعتراف ہر قوم اور ہر دور کے لوگوں نے کیا ہے۔ یہی وہ مردِ مجاہد ہے جو اس سلطانی امت کا سربراہ رہا ہے اور جس کے دور میں مسلمانوں نے کفار و مشرکین کے بڑے بڑے لشکروں کو شکستِ فاش عطا کی۔ اس باہمت رہنما کی بدولت ہی مسلمان اس کرئہ ارض کے کونے کونے میں پھیل گئے اور دشمنانِ دین پر اسلام کی دھاک اور اسلام کا رعب و دبدبہ بیٹھ گیا۔ مشرکین و عیسائی اس مردِ مجاہد سے اِس قدر خوفزدہ ہوگئے کے لوگوں سے اس کا نام لے کر جنگ کے لئے مالِ غنیمت لے جایا کرتے۔ یہ بہادر انسان جہان جہان اسلام کے نام پر امن کے جھنڈے گاڑھتا وہاں وہاں اس کے حسنِ اخلاق کی داستانیں مشہور ہوجاتیں۔ اس کا بے داغ کردار ہی مسلمانوں کے حسنِ اخلاق اور بلند کردار کی ضمانت بنا۔
مصنف یہ عظیم و الشان تاریخ بیان کرنے کے بعد کہتا ہے کہ دورِحاضر میں بھی امتِ مسلمہ کو ایسے ہی مومن کی ضرورت ہے جو دنیا کے بے گھر اور پستی میں گھرے ہوئے مسلمانوں کو دوبارہ عظمتِ رفتہ کی طرف لوٹا دے اور یہ ملت ایک بار پھر دنیا کی امامت کا منصب سنبھال لے۔ فلسطین میں جس طرح مسلمانوں کو بے دردی سے بے گھر کیا گیا اور بیت المقدس پر یہودیوں نے جس ہٹ دھرمی سے قبضہ کیا وہ مسلمانوں کو للکار للکار کر کہہ رہا ہے کہ ہے کوئی غازی جو اٹھے اور اپنی مدد کرے۔ اس قوم کو ذہنی و جسمانی غلامی کی ذنجیروں سے آزاد کرائے۔
مصنف کے ذہن میں یہ تمام واقعات بالکل واضح طورپر سامنے آجاتے ہیںاور وہ جوش و جذبات میں بے اختیار اس عظیم رہنما سے مخاطب ہو جاتے ہیں کہ اے فاتح! مسلمانوں کا اب بہت برا حال ہے۔ دنیا بھر میں جگہ جگہ اللہ کے بندے تیرے منتظر ہیں۔ اتنے ظلم و ستم ہیں گویا قیامت کے مناظر ہمارے سامنے گھوم رہے ہیں۔ قیامت کے روز تو سب کو دوبارہ اٹھایا جائے گا‘ تو کب اٹھے گا کہ قیامت بھی آپہنچی ہے۔

مضامین سرسید

سرسید احمد خان ٍ اردو زبان پر سرسید کے احسانا ت کا ذکر کرتے ہوئے مولوی عبدالحق صاحب فرماتے ہیں:
” اس نے زبان کو پستی سے نکالا، انداز بیان میں سادگی کے ساتھ قوت پیدا کی ، سنجیدہ مضامین کا ڈول ڈالا۔ سائنٹیفک سوسائٹی کی بنیاد ڈالی۔ جدید علوم و فنون کے ترجمے انگریزی سے کرائے ۔ خود کتابیں لکھیں اور دوسروں سے لکھوائیں۔ اخبار جاری کرکے اپنے انداز تحریر ، بے لاگ تنقید اور روشن صحافت کا مرتبہ بڑھایا”تہذیب الاخلاق “ کے ذریعے اردو ادب میں انقلاب پیدا کیا۔“
سرسید کے زمانے تک اردو کا سرمایہ صرف قصے کہانیاں ، داستانوں ، تذکروں ، سوانح عمریوں اور مکاتیب کی شکل میں موجود تھا۔ سرسید تک پہنچتے پہنچتے اردو نثر کم از کم دو کروٹیں لے چکی تھی جس سے پرانی نثر نگاری میں خاصی تبدیلی آچکی تھی۔خصوصاً غالب کے خطوط نثر پر کافی حد تک اثر انداز ہوئے اور اُن کی بدولت نثر میں مسجع و مقفٰی عبارت کی جگہ سادگی اور مدعا نگاری کو اختیار کیا گیا۔ لیکن اس سلسلے کو صرف اور صرف سرسید نے آگے بڑھایا اور اردو نثر کو اس کا مقام دلایا

جدید اردو نثر کے بانی:۔

بقول مولانا شبلی نعمانی،
” اردو انشاءپردازی کا جو آج انداز ہے اُس کے جد امجد اور امام سرسید تھے“
سرسید احمد خان ، ”اردو نثر “ کے بانی نہ سہی ، البتہ ”جدید اُردو نثر“ کے بانی ضرور ہیں۔ ان سے پہلے پائی جانی والی نثر میں فارسی زبان کی حد سے زیادہ آمیزش ہے۔ کسی نے فارسی تراکیب سے نثر کو مزین کرنے کی کوشش کی ہے اور کسی نے قافیہ بندی کے زور پر نثر کو شاعری سے قریب ترلانے کی جدوجہد کی ہے۔ ان کوششوں کے نتیجے میں اردو نثر تکلف اور تصنع کا شکار ہو کر رہ گئی ہے۔ سرسید احمد خان پہلے ادیب ہیں جنہوں نے اردو نثر کی خوبصورتی پر توجہ دینے کے بجائے مطلب نویسی پر زور دیاہے۔ ان کی نثر نویسی کا مقصد اپنی علمیت کا رعب جتانا نہیں ۔ بلکہ اپنے خیالات و نظریات کو عوام تک پہنچانا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے جو کچھ لکھا ۔ نہایت آسان نثر میں لکھا ، تاکہ اسے عوام لوگ سمجھ سکیں۔اور یوں غالب کی تتبع میں انہوں نے جدید نثر کی ابتداءکی۔

رہنمائے قوم:۔

سرسید نے مسلمانوں کی رہنمائی دستگیری اور اصلاح کا کام اس وقت شروع کیا جب غدر کے بعد یہ قوم بے بسی کا شکار تھی۔ اور اس پر مایوسی طاری تھی۔ وہ بے یقینی کے عالم میں تھی اور اسے کوئی راہ سجھائی نہیں دے رہی تھی۔ اس کی تہذیب اور تمدن ادبار کا شکار تھی۔ عزت نفس ، مجروح اور فاری البالی عنقا تھی۔ حکمران قوم کا عتاب ، ہندو کی مکاری اور خود مسلمان قوم کی نااہلی اور احساس زیاں کی کمی ایسے عناصر تھے جن میں کسی قوم کا زندہ رہنا یا ترقی کی طرف بڑھنا معجزہ سے کم نہ تھا۔ سرسید رجائی فکر کے حامل ایک ایسے رہنما تھے جسے اس قوم کو موجودہ ادبار کے اندر بھی ترقی کرنے، آگے بڑھنے اور اپنا کھویا ہو امقام پانے کی لگن اور جوت نظر آئی۔ سرسید نے ایک خاص منصوبہ بندی کے تحت اس قوم کی فلا ح و بہبود اور ترقی کے لئے ایک بھر پور اصلاحی تحریک کا آغاز کیا۔ اس منصوبہ بندی میں مسلمانوں کی تعلیمی ، تمدنی ، سیاسی ، مذہبی ، معاشی اور معاشرتی زندگی کو ترقی اور فلاح کے نئے راستے پر ڈالنا تھا۔ اور اس کے ساتھ ساتھ اس میں قنوطیت کو ختم کر کے اعتماد او ر یقین پیدا کرنا تھا۔

مضمون نگاری:۔

سرسید احمد خان کو اردو مضمون نگاری کا بانی تصور کیا جاتا ہے۔ انہوں نے ایک مغربی نثری صنف Essayکی طر ز پر اردو میں مضمون نگاری شروع کی ۔ وہ بیکن، ڈرائڈن ، ایڈیشن اور سٹیل جیسے مغربی مضمون نگاروں سے کافی حد تک متاثر تھے۔ انہوں نے بعض انگریزی انشائےہ نگاروں کے مضامین کو اردو میں منتقل کیا۔ انہوں نے اپنے رسالہ ”تہذیب الاخلاق“ میں انگریز انشائیہ نگاروں کے اسلوب کو کافی حد تک اپنایا اور دوسروں کو بھی اس طر ز پر لکھنے کی ترغیب دی۔
سید صاحب کے سارے مضامین Essayکی حد میں داخل نہیں ہو سکتے ، مگر مضامین کی کافی تعداد ایسی ہے جن کو اس صنف میں شامل کیا جا سکتا ہے۔ مثلاً تہذیب الاخلاق کے کچھ مضامین تعصب ، تعلیم و تربیت ، کاہلی ، اخلاق ، ریا ، مخالفت ، خوشامد ، بحث و تکرار، اپنی مدد آپ، عورتوں کے حقوق، ان سب مضامین میں ان کا اختصار قدر مشترک ہے ۔ جو ایک باقاعدہ مضمون کا بنیادی وصف ہے۔

سرسید کا اسلوب:۔

اس سے پہلے کہ ہم سرسید کے تصور اسلوب کے بارے میں لکھیں ۔ اپنے اسلوب کے بارے میں سرسید کے قول کو نقل کرتے ہیں،
” ہم نے انشائیہ کا ایک ایسا طرز نکالا ہے جس میں ہر بات کو صاف صاف ، جیسی کہ دل میں موجود ہو ، منشیانہ تکلفات سے بچ کر ، راست پیرایہ اور بیان کرنے کی کوشش کی ہے اور لوگوں کو بھی تلقین کی ہے۔
دراصل سرسید احمد خان ”ادب برائے ادب“ کے قائل نہیں ، بلکہ وہ ادب کو مقصدیت کا ذریعہ سمجھتے ہیں ۔ وہ کسی خاص طبقہ کے لئے نہیں لکھتے ۔ بلکہ اپنی قو م کے سب افراد کے لئے لکھتے ہیں۔ جن کی وہ اصلاح کے خواہاں ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عوام سے قریب تر ہونے کے لئے انہوں نے تکلف اور تصنع کا طریقہ اپنانے سے گریز کیا اور سہل نگاری کو اپنا شعار بنایاہے۔ کیونکہ وہ مضمون نگاری میں اپنے دل کی بات دوسروں کے دل تک پہنچانے کے خواہاں ہیں۔ان کی تحریر کی خصوصیات مندرجہ ذیل ہیں۔

سادگی:۔

سرسید احمد کی نثر سادہ ، سہل اور آسان ہوتی ہے اور اسے پڑھتے ہوئے قاری کو کوئی الجھن محسوس نہیں کرتا ۔ ذیل میں ان کے ایک مضمون ”دنیا بہ امید قائم ہے“ سے ایک اقتباس دیا جار ہا ہے۔ جو سادگی کا خوبصورت نمونہ ہے۔ اس مضمون میں وہ خوشامد کے بارے میں کتنے آسان اور سادہ الفاظ میں بات کر رہے ہیں:
”جبکہ خوشامد کے اچھا لگنے کی بیماری انسان کو لگ جاتی ہے تو اس کے دل میں ایک ایسا مادہ پیدا ہو جاتا ہے جو ہمیشہ زہریلی باتوں کے زہر کو چوس لینے کی خواہش رکھتا ہے۔ جس طرح کہ خوش گلو گانے والے کی راگ اور خوش آئند با جے کی آواز انسان کے دل کو نرم کر دیتی ہے۔ اسی طرح خوشامد بھی انسان کو ایسا پگھلا دیتی ہے کہ ہر ایک کانٹے کے چبھنے کی جگہ اس میں ہو جاتی ہے۔“

بے تکلفی اور بے ساختگی:۔

سرسید احمد خان نہایت بے تکلفی سے بات کرنے کے عادی ہیں۔ وہ عام مضمون نگاروں کی طرح بات کو گھما پھرا کر بیان کرنے کے قائل نہیں۔ ان کی تحریریں پڑھ کر محسوس ہوتا ہے کہ ان میں آمد ہے آورد نہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ وہ فی البدیہ بات چیت کر رہے ہیں۔ یہ بات ان کی تحاریر میں بے ساختگی کا ثبوت ہے۔ لیکن بعض ناقدین کے خیال میں اس بے ساختگی کی وجہ سے ان کی تحریر کا ادبی حسن کم ہو گیا ہے ۔ لیکن اگر یہ بھی تو سوچیے کہ جب آدمی بے ساختہ طور پر باتیں کرتا ہے، تو وہ فقرات اور تراکیب کو مدنظر نہیں رکھتا ۔ آپس کی باتیں ادبی محاسن کی حامل ہوں، نہ ہوں ان میں بے ساختگی کا عنصر ضرور شامل ہوتا ہے۔ ویسے بھی سرسید احمد خان کا مقصد خود کو ایک ادیب منوانا نہیں تھا ۔ بلکہ تحریروں کے ذریعے اپنی بات دوسروں تک پہنچانا تھا۔ سر سید کی بے ساختگی کا نمونہ دیکھیے ، وہ اپنے مضمون” امید کی خوشی “ میں لکھتے ہیں۔
”تیرے ہی سبب سے ہمارے خوابیدہ خیال جاگتے ہیں ۔ تیری ہی برکت سے خوشی ،خوشی کے لئے۔ نام آوری ، نام آوری کے لئے ، بہادری ،بہادری کے لئے، فیاضی ، فیاضی کے لئے، محبت ، محبت کے لئے ، نیکی ، نیکی کے لئے تیار ہے۔ انسان کی تمام خوبیاں اور ساری نیکیاں تیری ہی تابع اور تیری ہی فرمانبردار ہیں۔“

مدعا نویسی:۔

سرسید کے مضامین میں مقصد کا عنصر غالب ہے اور وہ ہمیشہ اپنے مقصد ہی کی بات کرتے ہیں۔ ان کی کسی بھی تحریر کے ایک دو پیراگراف پڑھ کر ہمیں اندازہ ہو جاتا ہے کہ وہ ہمیں کس جانب لے جانا چاہتے ہیں۔ اور ان کا اصل مقصد کیاہے وہ اپنے مدعا کو چھپاتے نہیں بلکہ صاف صاف بیان کردیتے ہیں۔ کوئی مضمون تحریر کرتے وقت یہ بھول جاتے ہیں کہ وہ ایک بلند پایہ ادیب ہیں۔ وہ صرف یہ یاد رکھتے ہیں کہ وہ ایک مصلح قوم ہے۔ اس ضمن میں وہ اپنے نظریات کو واضح طور بیان کر دینے کے عادی ہیں۔ ان کی تحریروں میں مقصدیت و افادیت کا عنصر اس حد تک غالب ہے کہ انہیں زبان کے حسن اور ادب کی نزاکت و جمال پر توجہ دینے کا موقع ہی نہیں ملتا۔ نزاکت خیال اور خیال آفرینی ان کے نزدیک تصنع کاری ہے۔ جو عبارت کا مفہوم سمجھنے میں قاری کے لئے دقت کا موجب بنتی ہے۔

شگفتگی اور ظرافت:۔

سرسید کی تحاریر میں کافی حد تک شگفتگی پائی جاتی ہے۔ وہ اپنے مضامین میں شگفتگی پیدا کرنے کے لئے کبھی کبھی ظرافت سے بھی کام لیتے ہیں۔ لیکن اس میں پھکڑ پن پیدا نہیں ہونے دیتے۔اس کے متعلق ڈاکٹر سید عبداللہ لکھتے ہیں،
”سرسید کی تحریروں میں ظرافت اسی حد تک ہے، جس حد تک ان کی سنجیدگی ، متانت اور مقصد کو گوارا ہے۔“
ذیل میں اُن کی ظرافت کی ایک مثال مندرجہ ذیل ہے،
” اس نے کہا کیا عجب ہے کہ میں بھی نہ مروں ، کیونکہ خدا اس پر قادر ہے ایک ایسا شخص پیدا کرے، جس کو موت نہ ہو اور مجھ کو امید ہے کہ شاید وہ شخص میں ہوں۔ یہ قول تو ایک ظرافت(ظریف) کا تھا مگر سچ یہ ہے کہ زندگی کی امید ہی موت کا رنج مٹاتی ہے۔“

متانت اور سنجیدگی:۔

سرسید کے زیادہ تر مضامین سنجیدہ ہوتے ہیں ، وہ چونکہ ادب میں افادیت کے قائل ہیں، اس لئے ہر بات پر سنجیدگی سے غور کرتے اور اسے سنجیدہ انداز ہی سے بیان کرتے ہیں۔ اکثر مقامات پر ان کے مصلحانہ انداز فکر نے ان کی تحریروں میں اس حدتک سنجیدگی پیدا کر دی ہے۔ کہ شگفتگی کا عنصر غائب ہو گیا ہے۔بقول سید عبداللہ،
”سرسید کے مقالا ت کی زبان عام فہم ضرور ہے۔ ان کا انداز بیان بھی گفتگو کا انداز بیان ہے مگر سنجیدگی او ر متانت شگفتگی پیدانہیں ہونے دی ۔ البتہ ایسے مقامات جن میں ترغیبی عنصر کی کمی ہے۔“

اثر آفرینی :۔

سرسید احمد خاں اپنی تحاریر میں اثر پیدا کرنے کی ہر ممکن کوشش کرتے ہیں۔ ان کے بات کرنے کا مقصد ہی یہی ہوتا ہے۔ کہ کسی نہ کسی ڈھب سے قاری کے ذہن پر اثر انداز ہوا جائے اور اسے اپنے نظریات کی لپیٹ میں لے لیا جائے۔ اس مقصد کے لئے وہ کئی حربے اختیار کرتے ہیں۔ مذہب اور اخلاقیات کا حربہ اثر آفرینی کے لئے ان کا سب سے بڑا حربہ ہے۔ اس ضمن میں وہ اشارات و کنایات، تشبیہات اور دیگر ادبی حربوں سے بھی کام لیتے ہیں۔ لیکن قدرے کم، بقول ڈاکٹر سید عبداللہ،
”اثر و تاثیر کی وجہ تو یہ ہے کہ ان کے خیالات میں خلوص اور سچائی ہے۔ یعنی دل سے بات نکلتی ہے ۔ کل پر اثر کرتی ہے۔“

روانی:۔

سرسید کا قلم رواں ہے۔ وہ جس موضوع پر لکھتے ہیں، بے تکان لکھتے چلے جاتے ہیں۔ ان کی بعض تحریریں پڑھ کر تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے کوئی مشتاق کھلاڑی بلادم لئے بھاگتا ہی چلا جاتا ہے۔بقول ڈاکٹر سیدعبداللہ:
”وہ ہر مضمون پر بے تکان اور بے تکلف لکھنے پر قادر تھے چنانچہ انہوں نے تاریخ ، فن تعمیر ، سیرت ، فلسفہ ، مذہب ، قانون ، سیاسیات ، تعلیم ، اخلاقیات مسائل ملکی ، وعظ و تدکیر ، سب مضامین میں ان کا رواں قلم یکساں پھرتی اور ہمواری کے ساتھ رواں دواں معلوم ہوتا ہے۔ یہ ان کی قدرت کا کرشمہ ہے۔“

متنوع اسلوب:۔

سرسید کانظریہ تھا کہ ہر صنف نثر ایک خاص طرز نگارش کی متقاضی ہے۔ مثلاً تاریخ نگاری، فلسفہ ، سوانح عمر ی الگ الگ اسلوب بیان کا تقاضہ کرتی ہیں۔ چنانچہ ہر صنف نثر کوسب سے پہلے اپنے صنفی تقاضوں کو پورا کرنا چاہیے ۔ چنانچہ ہر لکھنے والے صنفی تقاضوں کے مطابق اسلوب اختیارکرنا چاہیے۔
سرسید کے ہاں موضوعات کا تنوع اور رنگارنگی ہے اور سرسید کے اسلوب نگارش کی یہ خوبی اور کمال ہے کہ انہوں نے موضوع کی مناسبت سے اسلوب نگارش اختیار کیا ہے۔ چنانچہ ہم کہہ سکتے ہیں کو بیان پر اس حد تک قدرت حاصل تھی کہ وہ سیاسی ، سماجی ، مذہبی ، علمی، ادبی ، اخلاقی، ہر قسم کے موضوعات پر لکھتے وقت موضوع جس قسم کے اسلوب بیان کا متقاضی ہوتا اس قسم کا اسلوب اختیار کرتے۔

خلوص و سچائی:۔

سرسید کے فقروں اور پیراگراف میں تناسب اور موزونیت کی کمی ہے ۔ جملے طویل ہیں۔انگریزی الفاظ کا استعمال بھی طبع نازک پر گراں گزرتا ہے۔ لیکن ان سب باتوں کے باوجود ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ سرسید کی تحریریں ادبیت سے خالی ہیں۔ خلوص اور سچائی ادب کی جان ہے۔ سرسید اکھڑی اکھڑی تحریروں ، بے رنگ اور بے کیف ، جملوں ، بوجھل ، ثقیل اور طویل عبارتوں کو پڑھتے ہوئے محسوس ہوتا ہے کہ کہ لکھنے والا ، محسوس کرکے لکھ رہا ہے۔ کسی جذبے کے تحت لکھ رہا ہے۔اس کے پیش نظرنہ کوئی ذاتی غرض ہے اور نہ اسے کسی سے کوئی بغض و عناد اور ذاتی رنجش ہے۔ ان تحریروں کو دیکھ کر جہاں ہم سچائی محسوس کرتے ہیں جو دل پر اثر کرتی ہے، وہاں ان کی تحریروں میں مقصد کی جلالت اور عظمت پائی جاتی ہے۔

پھیکا پن:۔

سرسید کی تحریریں یقین و اعتماد تو پیدا کرتی ہیں مگر قاری کو محظوظ اور مسرور بہت کم کرتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ مقصد کی رو میں بہتے چلے جاتے ہیں۔ وہ خیالات کے اظہار میں اتنے بے تکلف اور بے ساختہ ہو جاتے ہیں کہ لفظوں کی خوبصورتی ، فقروں کی ہم آہنگی کی کوئی پرواہ نہیں کرتے۔ وہ کسی پابندی ، رکاوٹ اور احتیاط کا لحاظ نہیں کرتے۔وہ اسلوب اور شوکت الفاظ پر مطلب اور مدعا کو ترجیح دیتے ہیں۔ اس طرح سرسید کی تحریروں میں حسن کی کمی پیدا ہو جاتی ہے۔ اور یہی کمی اس کے اسلوب کا خاصہ بھی بن جاتی ہے۔ اور ان کی تحریر ہمہ رنگ خیالات ادا کرنے کے قابل ہو جاتی ہے۔ مولانا حالی اُن کے بارے میں لکھتے ہیں،
” کسی شخص کے گھر میں آگ لگی ہو تو وہ لوگوں کو پکارے کہ آؤ اس آگ کو بجھائو ۔ اس میں الفاظ کی ترتیب اور فقروں کی ترکیب کا خیال نہیں ہوتا کیونکہ ان کے پاس ایک دعوت تھی ، اس دعوت کو دینے کے لئے انہیں جو بھی الفاظ ملے، بیان کر دئیے۔“

مجموعی جائزہ:۔

جب ہم سرسید کی ادبی کاوشوں کا جائزہ لیتے ہیں تو وہ خود اپنی ذات میں دبستان نظر آتے ہیں۔ سرسید نے اپنی تصانیف کے ذریعے اپنے زمانے کے مصنفوں اور ادیبوں کو بہت سے خیالات دئیے۔ ان کے فکری اور تنقیدی خیالات سے ان کا دور خاصہ متاثر ہوا۔ ان سے ان کے رفقاءہی خاص متاثر نہیں ہوئے۔ بلکہ وہ لوگ بھی متاثر ہوئے جو ان کے دائرے سے باہر بلکہ مخالف تھے۔ خالص ادب اور عام تصانیف دونوں میں زمانے نے ان سے بہت کچھ سیکھا۔ اور ادب میں ایک خاص قسم کی معقولیت ، نیا پن ، ہمہ گیری ایک مقصد اور سنجیدگی پیدا ہو گئی جس کے سبب ادب بیکاروں کا مشغلہ نہ رہا بلکہ ادب برائے زندگی بن گیا۔ اُن کے اپنے رفقاءنے اُن کے اس مشن کو اور بھی آگے بڑھایا ۔ مولانا الطاف حسین حالی، مولانا شبلی نعمانی ، مولو ی ذکا اللہ ، چراغ علی، محسن الملک ، اور مولوی نذیر احمد جیسے لوگوں کی نظریات میں سرسید کی جھلک نمایا ں ہے۔ بقول ڈاکٹر سید عبداللہ
”سرسید کا ہم عصر ہر ادیب ایک دیو ادب تھا، اور کسی نہ کسی رنگ میں سرسید سے متاثر تھا۔“
سر سید احمد خان ایک تعارف
سنگِ تربت ہے مرا گرویدہِ تقدیر دیکھ
چشم باطن سے اس لوح کی تحریر دیکھ

سر سید احمد خان جیسا مردِ مومن کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ یہ انہیں کی کاوشوں کا نتیجہ ہے کہ آج ہم میں معاشرے کے دردواَلم کا احساس موجود ہے۔ وہ ایک ایسے دور میں پیدا ہوئے جب مسلمانانِ ہند انگریز کی غلامی میںگمراہی و ضلالت کی تاریک چادر اوڑھے سو رہے تھے‘ انسانی ضمیر کچلا جا رہا تھا ‘ انسانیت پس رہی تھی اور صاحبِ دولت طبقہ غیر ملکی آقاﺅں کی سرپرستی میں کمزور اور بے حس عوام پرحکومت کر رہا تھا۔ یہ دنیا کا اصول ہے کہ جب ظلم و ستم کی تاریک گھٹائیںاندھیروں کاروپ اختیار کر لیتی ہیں تو انہی مظلوموںمیں سے ایک ایسی کرن پھوٹتی ہے جو بڑی تیزی سے اس تاریکی کو چیرتی ہوئی ہر طرف اجالا پھیلا دیتی ہے ۔ اسی کرن کی بدولت نورپھیلتاہے‘ اذانیں سنی جاتی ہیں‘ پرندے چہکتے ہیں اور انسانیت خوابِ غفلت سے بیدار ہو کر عباد ت گاہوں کا رخ کرتی ہے۔ سر سید احمدخان اس کی ایک تابندہ مثال ہیں۔
اٹھارویں صدی میں سر سیّدمعاشرے کی اصلاح کا بیڑا اپنے سر لیتے ہے۔ ان کے کارخانہئِ فکر میں ایسے گہر ہائے آبدا ر تخلیق پاتے ہیں جن کی تابانیاں صفحہِ قرطاس پر منتقل ہونے کے بعد نہ صرف مسلمانانِ ہند کو صراطِ مستقیم پر گامزن کرتی ہیں بلکہ اردو ادب کی لا متناہی ترقی کا سبب بھی بنتی ہیں۔ آپ اردو ادب کو سادگی اور سلاست کے زیور سے آراستہ کرتے ہیں اورتحریروں میں مقصدیت پیدا کرتے ہیں۔آپ کی اردو ادب کے لئے اَن گنت خدمات کے باعث آپ کو جدید اردو ادب کا بانی کے لقب سے بھی جانا جاتا ہے۔
طرزِ تحریر کی خصوصیات
سر سیّد احمد کے طرزِ تحریر کی خصوصیات درج ذیل ہیں۔
(۱) مقصدیت
سر سیّد احمد خان کی زندگی کا مقصد برِصغیر کے مسلمانوں کو حُسن و عشق کی فضاﺅں سے نکال کر میدانِ عمل میں لے جانا تھا۔ اس وقت کے ادیب طرزِ بیان پر زور دیتے تھے اور ان کی تحریریں بے مقصد ہوتی تھیں۔ انہوں نے زمانے کی اس روایت سے بغاوت کرتے ہوئے تحریروں میں طرزِ بیان سے زیادہ مقصدیت پرزور دیا اور ایسی تحریریں قلم بند کی جن سے قوم میں شعور پیدا ہو۔ سر سید کا کہنا ہے۔
ایک اچھا ادیب وہی ہے جو کسی مقصد کے تحت لکھے۔
بطور مثال ایک مضمون میں لکھتے ہیں۔

پس اے میرے نوجوان ہم وطنو! اور میری قوم کے بچو! اپنی قوم کی بھلائی پر کوشش کرو تاکہ آخری وقت میں اس بڈھے کی طرح نہ پچھتاﺅ۔ ہمارا زمانہ تو آخر ہے‘ اب خدا سے یہ دعا ہے کہ کوئی نوجوان اٹھے اور اپنی قوم کی بھلائی میں کوشش کرے۔ آمین !
(۲) اضطراب
سر سید کی شخصیت ایک پُر جوش شخصیت تھی اور وہ ایک انقلابی ذہن کے مالک تھے۔ وہ چونکہ اس مقصد کی تحت لکھتے تھے کہ قوم کو بیدار کیا جائے اس لئے ان کی تحریروں میں ایک اضطرابی کیفیت پائی جاتی ہے۔ وہ اپنا مدعا بیان کرتے وقت اس قدر پر جوش ہو جاتے کہ انہیں جملوں کی خوبصورتی اور فقروں کی ہم آہنگی میں دلچسپی نہیں رہتی اور ان کا قلم جذبات کی رو میں بہہ جاتا۔
(۳) انگریزی الفاظ
سر سید چونکہ جملوں کی ساخت کو اہمیت نہیں دیتے تھے اس لئے ان کی تحریروں میں انگریزی کے الفاظ بھی کثرت سے پائے جاتے ہیں۔ ان کا کمال یہ ہے کہ ان الفاظ کے استعمال کے باوجود ان کی تحریریں پُر اثر ہوتی ہیں۔ مثال کے طور پر ایک جگہ وہ لکھتے ہیں۔
علیگڑھ کالج کے اسٹوڈنٹس میںسے ون پرسنٹ بھی نہیں ہیں جنہیں ہائی سروسز کے قابل سمجھا جائے۔
(۴) استدلالی تحریریں
سر سیّد احمد خان نے تحریک چونکہ ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت چلائی تھی اس لئے انہوں نے تحریروں میں اپنا مقصد دلائل کے ساتھ واضح کیا ہے ۔ انہوں نے علمی‘ ادبی‘ دینی‘ اخلاقی اور معاشرتی تحریروں میں جذباتی اندازِ بیان اختیار کرنے کے بجائے استدلال سے کام لیا ہے اور ہر بات کو عقل کی کسوٹی پر پرکھنے کی کوشش کی ہے۔ بقول ڈاکٹر سید عبداللہ۔
ان کی تحریروں میں منطقیانہ استدلال پایا جاتا ہے جو ہر قسم کے علمی اور تعلیمی مباحثے کے لئے موضوع ہے۔
(۵) سادگی و سلاست
سر سیّد احمد خان کے دور میں جتنے بھی مشہور و معروف ادیب گزرے ہیں وہ اپنے نثر کے طرز تحریر پر توجہ دیتے تھے اور اردو نثر میں شاعرانہ رنگینی اور آرائشوں کا بہت دخل تھا۔ اردو نثر طوالت اور بے جا تکلفات سے بوجھل ہو رہی تھی۔ سر سیّد ان پابندیوں کو خیرباد کہتے ہوئے اپنی تحریروں میں سادہ اور فطری انداز اختیار کرتے ہیں اور صاف اور آسان عبارات میں اپنا مقصد بیان کرتے ہیں۔ بقول ابو اللّیث صدّیقی۔
زندگی کی جو سادگی اور توانائی سر سید کے کردار میں پائی جاتی ہے وہی اُن کی تحریروں میں بھی موجود ہے۔
بطور مثال نمونہ پیش ہے۔
اے مسلمان بھائیو ! کیا تمہاری یہی حالت نہیں ہے ؟ تم نے اس عمدہ گورنمنٹ سے جو تم پر حکومت کر رہی ہے‘ کیا فائدہ اٹھایا ؟
(۶) پُر اثر مضامین
سر سیّد احمد خان نے اردو ادب کو جو سرمایہ فراہم کیا وہ ایسے مضامین کا سرمایہ ہے جن کا مطالعہ کرنے سے قاری کی وہی کیفیت ہو جاتی ہے جو مصنف کی تحریر کے وقت ہوتی ہے۔ ان کی تحریروں سے ان کی شخصیت کا جوش جھلکتا ہے اور ان کے نثر پارے شمشیرِ آبدار کی سی کاٹ رکھتے ہیں۔ بقول حالی۔
جس طرح تلوار کی کاٹ درحقیقت ایک باڑ میں نہیں بلکہ سپاہی کے کرخت ہاتھ میں ہوتی ہے۔ اسی طرح کلام کی تاثیر اس کے نڈر دل میں اور بے لاگ زبان میں ہے۔
(۷) تنوعِ مضامین
سر سیّد احمد خان کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ ان کے مضامین میں حیرت انگیز تنوع پایا جاتا ہے۔ وہ موضوعِ مضمون کے ساتھ پورا انصاف کرتے ہیں اور مضمون کو اسی کی مناسبت سے قلم بند کرتے ہیں۔ ان کے اسلوب میں ہر رنگ کا جلوہ حسبِ موقع موجود ہے۔ اگر ان کی ادبی تحریروں‘ علمی و تحقیقی مقالوں اور عدالتی فیصلوں کا بغور مطالعہ کیا جائے تو بہ اعتبارِ موضوع نمایاں فرق نظر آتا ہے۔
(۸) تمثیلی اندازِ بیان
سر سید احمد خان نے اپنے بیشتر مضامین میں تشبیہات و استعارات کا استعمال کیا ہے اور موضوع کو دلچسپ بنانے کے لئے تمثیل کا رنگ اپنایا ہے۔ ان کے یہ مضامین حکایتی اسلوب کی وجہ سے نہایت دلچسپ اور اثر انگیز ہیں۔
امید کی خوشی اور گزرا ہوا زمانہ میں سر سیّد کا یہ رنگ جھلکتا ہے۔ ان مضامین میں انہوں نے دلچسپ اور ثمثیلی انداز میں اپنا مافی الضمیربیان کیا ہے۔
(۹) بے ساختگی
مصنف کی تحریروں میں ایک بے تکلفی اور بے ساختگی سی پائی جاتی ہے۔ وہ اپنا مقصد اس طرح بیان کرتے ہیں گویا قاری ان کے سامنے بیٹھا ان سے ہمکلام ہو۔ ان کے مضامین ہر قسم کی بناوٹ سے پاک اور سچائی کے جذبے سے پُر ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی بات سیدھی دل میں اترتی ہے اور اثر رکھتی ہے۔
ناقدین کی آراہ
مختلف تنقیدنگار سر سیّد کی عظمت کا اعتراف کرتے ہیں اور مختلف انداز میں سر سیّد کی تعریف بیان کرتے نظر آتے ہیں۔ شبلی نغمانی سر سیّد کے بارے میں بیان کرتے ہیں۔
سر سیّد نے اردو انشاءپردازی کو اس رتبے پر پہنچا دیا جس کے آگے اب ایک قدم بڑھنا بھی ممکن نہیں۔
بابائے اردو مولوی عبد الحق لکھتے ہیں۔
یہ سرسیّد ہی کا کارنامہ تھا جن کی بدولت ایک صدی کے قلیل عرصے میں اردو ادب کہیں کا کہیں پہنچ گیا۔
ڈاکٹر احسن فاروقی کا بیان ہے کہ۔
اپنے عمل سے انہوں نے یہ واضح کر دیا ہے کہ نثر نگاروں کے بنیادی اصول کیا ہونے چاہیے ان کو اسی میں کمال حاصل ہے اور اسی کمال کی وجہ سے وہ اردو نثر نگاری کے سرتاج رہیں گے۔
حاصلِ تحریر
سر سیّد احمد خان کی تحریروں میں اردو ادب کا ایک تاریخی موڑ ہے۔ انہوں نے سلیس اور سہل اندازِ بیان کو فروغ دے کر دامنِ اردو کو وسیع کیا۔ اردو نثر شاعرانہ ذوق‘ مشکل اور تشبیہات سے بھری ہوئی تھی۔ آپ نے اُسے سلاست‘ سادگی اوراستدلالیت میں تبدیل کیا اور اردو ادب کو فطری طرزِ تحریر سے مہکا دیا۔ آج سرسیّد ہی کی بدولت اردو ایک مشہور و معروف زبان ہے اور ہم فخر سے اردو کو اپنی قومی زبان تسلیم کرتے ہیں۔ حالی نے شاید ٹھیک ہی کہا تھا
ترے احسان رہ رہ کر سدا یاد آئیں گے اُن کو
کریں گے ذکر ہر مجلس میں اور دہرائینگے اُن کو
Fahim Patel

By Fahim Patel

- See more at: http://www.guesspapers.net/5905/%D8%B3%D8%B1-%D8%B3%DB%8C%D8%AF-%D8%A7%D8%AD%D9%85%D8%AF-%D8%AE%D8%A7%D9%86/#sthash.S9KZhSL1.dpuf
سر سید احمد خان ایک تعارف
سنگِ تربت ہے مرا گرویدہِ تقدیر دیکھ
چشم باطن سے اس لوح کی تحریر دیکھ

سر سید احمد خان جیسا مردِ مومن کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ یہ انہیں کی کاوشوں کا نتیجہ ہے کہ آج ہم میں معاشرے کے دردواَلم کا احساس موجود ہے۔ وہ ایک ایسے دور میں پیدا ہوئے جب مسلمانانِ ہند انگریز کی غلامی میںگمراہی و ضلالت کی تاریک چادر اوڑھے سو رہے تھے‘ انسانی ضمیر کچلا جا رہا تھا ‘ انسانیت پس رہی تھی اور صاحبِ دولت طبقہ غیر ملکی آقاﺅں کی سرپرستی میں کمزور اور بے حس عوام پرحکومت کر رہا تھا۔ یہ دنیا کا اصول ہے کہ جب ظلم و ستم کی تاریک گھٹائیںاندھیروں کاروپ اختیار کر لیتی ہیں تو انہی مظلوموںمیں سے ایک ایسی کرن پھوٹتی ہے جو بڑی تیزی سے اس تاریکی کو چیرتی ہوئی ہر طرف اجالا پھیلا دیتی ہے ۔ اسی کرن کی بدولت نورپھیلتاہے‘ اذانیں سنی جاتی ہیں‘ پرندے چہکتے ہیں اور انسانیت خوابِ غفلت سے بیدار ہو کر عباد ت گاہوں کا رخ کرتی ہے۔ سر سید احمدخان اس کی ایک تابندہ مثال ہیں۔
اٹھارویں صدی میں سر سیّدمعاشرے کی اصلاح کا بیڑا اپنے سر لیتے ہے۔ ان کے کارخانہئِ فکر میں ایسے گہر ہائے آبدا ر تخلیق پاتے ہیں جن کی تابانیاں صفحہِ قرطاس پر منتقل ہونے کے بعد نہ صرف مسلمانانِ ہند کو صراطِ مستقیم پر گامزن کرتی ہیں بلکہ اردو ادب کی لا متناہی ترقی کا سبب بھی بنتی ہیں۔ آپ اردو ادب کو سادگی اور سلاست کے زیور سے آراستہ کرتے ہیں اورتحریروں میں مقصدیت پیدا کرتے ہیں۔آپ کی اردو ادب کے لئے اَن گنت خدمات کے باعث آپ کو جدید اردو ادب کا بانی کے لقب سے بھی جانا جاتا ہے۔
طرزِ تحریر کی خصوصیات
سر سیّد احمد کے طرزِ تحریر کی خصوصیات درج ذیل ہیں۔
(۱) مقصدیت
سر سیّد احمد خان کی زندگی کا مقصد برِصغیر کے مسلمانوں کو حُسن و عشق کی فضاﺅں سے نکال کر میدانِ عمل میں لے جانا تھا۔ اس وقت کے ادیب طرزِ بیان پر زور دیتے تھے اور ان کی تحریریں بے مقصد ہوتی تھیں۔ انہوں نے زمانے کی اس روایت سے بغاوت کرتے ہوئے تحریروں میں طرزِ بیان سے زیادہ مقصدیت پرزور دیا اور ایسی تحریریں قلم بند کی جن سے قوم میں شعور پیدا ہو۔ سر سید کا کہنا ہے۔
ایک اچھا ادیب وہی ہے جو کسی مقصد کے تحت لکھے۔
بطور مثال ایک مضمون میں لکھتے ہیں۔

پس اے میرے نوجوان ہم وطنو! اور میری قوم کے بچو! اپنی قوم کی بھلائی پر کوشش کرو تاکہ آخری وقت میں اس بڈھے کی طرح نہ پچھتاﺅ۔ ہمارا زمانہ تو آخر ہے‘ اب خدا سے یہ دعا ہے کہ کوئی نوجوان اٹھے اور اپنی قوم کی بھلائی میں کوشش کرے۔ آمین !
(۲) اضطراب
سر سید کی شخصیت ایک پُر جوش شخصیت تھی اور وہ ایک انقلابی ذہن کے مالک تھے۔ وہ چونکہ اس مقصد کی تحت لکھتے تھے کہ قوم کو بیدار کیا جائے اس لئے ان کی تحریروں میں ایک اضطرابی کیفیت پائی جاتی ہے۔ وہ اپنا مدعا بیان کرتے وقت اس قدر پر جوش ہو جاتے کہ انہیں جملوں کی خوبصورتی اور فقروں کی ہم آہنگی میں دلچسپی نہیں رہتی اور ان کا قلم جذبات کی رو میں بہہ جاتا۔
(۳) انگریزی الفاظ
سر سید چونکہ جملوں کی ساخت کو اہمیت نہیں دیتے تھے اس لئے ان کی تحریروں میں انگریزی کے الفاظ بھی کثرت سے پائے جاتے ہیں۔ ان کا کمال یہ ہے کہ ان الفاظ کے استعمال کے باوجود ان کی تحریریں پُر اثر ہوتی ہیں۔ مثال کے طور پر ایک جگہ وہ لکھتے ہیں۔
علیگڑھ کالج کے اسٹوڈنٹس میںسے ون پرسنٹ بھی نہیں ہیں جنہیں ہائی سروسز کے قابل سمجھا جائے۔
(۴) استدلالی تحریریں
سر سیّد احمد خان نے تحریک چونکہ ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت چلائی تھی اس لئے انہوں نے تحریروں میں اپنا مقصد دلائل کے ساتھ واضح کیا ہے ۔ انہوں نے علمی‘ ادبی‘ دینی‘ اخلاقی اور معاشرتی تحریروں میں جذباتی اندازِ بیان اختیار کرنے کے بجائے استدلال سے کام لیا ہے اور ہر بات کو عقل کی کسوٹی پر پرکھنے کی کوشش کی ہے۔ بقول ڈاکٹر سید عبداللہ۔
ان کی تحریروں میں منطقیانہ استدلال پایا جاتا ہے جو ہر قسم کے علمی اور تعلیمی مباحثے کے لئے موضوع ہے۔
(۵) سادگی و سلاست
سر سیّد احمد خان کے دور میں جتنے بھی مشہور و معروف ادیب گزرے ہیں وہ اپنے نثر کے طرز تحریر پر توجہ دیتے تھے اور اردو نثر میں شاعرانہ رنگینی اور آرائشوں کا بہت دخل تھا۔ اردو نثر طوالت اور بے جا تکلفات سے بوجھل ہو رہی تھی۔ سر سیّد ان پابندیوں کو خیرباد کہتے ہوئے اپنی تحریروں میں سادہ اور فطری انداز اختیار کرتے ہیں اور صاف اور آسان عبارات میں اپنا مقصد بیان کرتے ہیں۔ بقول ابو اللّیث صدّیقی۔
زندگی کی جو سادگی اور توانائی سر سید کے کردار میں پائی جاتی ہے وہی اُن کی تحریروں میں بھی موجود ہے۔
بطور مثال نمونہ پیش ہے۔
اے مسلمان بھائیو ! کیا تمہاری یہی حالت نہیں ہے ؟ تم نے اس عمدہ گورنمنٹ سے جو تم پر حکومت کر رہی ہے‘ کیا فائدہ اٹھایا ؟
(۶) پُر اثر مضامین
سر سیّد احمد خان نے اردو ادب کو جو سرمایہ فراہم کیا وہ ایسے مضامین کا سرمایہ ہے جن کا مطالعہ کرنے سے قاری کی وہی کیفیت ہو جاتی ہے جو مصنف کی تحریر کے وقت ہوتی ہے۔ ان کی تحریروں سے ان کی شخصیت کا جوش جھلکتا ہے اور ان کے نثر پارے شمشیرِ آبدار کی سی کاٹ رکھتے ہیں۔ بقول حالی۔
جس طرح تلوار کی کاٹ درحقیقت ایک باڑ میں نہیں بلکہ سپاہی کے کرخت ہاتھ میں ہوتی ہے۔ اسی طرح کلام کی تاثیر اس کے نڈر دل میں اور بے لاگ زبان میں ہے۔
(۷) تنوعِ مضامین
سر سیّد احمد خان کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ ان کے مضامین میں حیرت انگیز تنوع پایا جاتا ہے۔ وہ موضوعِ مضمون کے ساتھ پورا انصاف کرتے ہیں اور مضمون کو اسی کی مناسبت سے قلم بند کرتے ہیں۔ ان کے اسلوب میں ہر رنگ کا جلوہ حسبِ موقع موجود ہے۔ اگر ان کی ادبی تحریروں‘ علمی و تحقیقی مقالوں اور عدالتی فیصلوں کا بغور مطالعہ کیا جائے تو بہ اعتبارِ موضوع نمایاں فرق نظر آتا ہے۔
(۸) تمثیلی اندازِ بیان
سر سید احمد خان نے اپنے بیشتر مضامین میں تشبیہات و استعارات کا استعمال کیا ہے اور موضوع کو دلچسپ بنانے کے لئے تمثیل کا رنگ اپنایا ہے۔ ان کے یہ مضامین حکایتی اسلوب کی وجہ سے نہایت دلچسپ اور اثر انگیز ہیں۔
امید کی خوشی اور گزرا ہوا زمانہ میں سر سیّد کا یہ رنگ جھلکتا ہے۔ ان مضامین میں انہوں نے دلچسپ اور ثمثیلی انداز میں اپنا مافی الضمیربیان کیا ہے۔
(۹) بے ساختگی
مصنف کی تحریروں میں ایک بے تکلفی اور بے ساختگی سی پائی جاتی ہے۔ وہ اپنا مقصد اس طرح بیان کرتے ہیں گویا قاری ان کے سامنے بیٹھا ان سے ہمکلام ہو۔ ان کے مضامین ہر قسم کی بناوٹ سے پاک اور سچائی کے جذبے سے پُر ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی بات سیدھی دل میں اترتی ہے اور اثر رکھتی ہے۔
ناقدین کی آراہ
مختلف تنقیدنگار سر سیّد کی عظمت کا اعتراف کرتے ہیں اور مختلف انداز میں سر سیّد کی تعریف بیان کرتے نظر آتے ہیں۔ شبلی نغمانی سر سیّد کے بارے میں بیان کرتے ہیں۔
سر سیّد نے اردو انشاءپردازی کو اس رتبے پر پہنچا دیا جس کے آگے اب ایک قدم بڑھنا بھی ممکن نہیں۔
بابائے اردو مولوی عبد الحق لکھتے ہیں۔
یہ سرسیّد ہی کا کارنامہ تھا جن کی بدولت ایک صدی کے قلیل عرصے میں اردو ادب کہیں کا کہیں پہنچ گیا۔
ڈاکٹر احسن فاروقی کا بیان ہے کہ۔
اپنے عمل سے انہوں نے یہ واضح کر دیا ہے کہ نثر نگاروں کے بنیادی اصول کیا ہونے چاہیے ان کو اسی میں کمال حاصل ہے اور اسی کمال کی وجہ سے وہ اردو نثر نگاری کے سرتاج رہیں گے۔
حاصلِ تحریر
سر سیّد احمد خان کی تحریروں میں اردو ادب کا ایک تاریخی موڑ ہے۔ انہوں نے سلیس اور سہل اندازِ بیان کو فروغ دے کر دامنِ اردو کو وسیع کیا۔ اردو نثر شاعرانہ ذوق‘ مشکل اور تشبیہات سے بھری ہوئی تھی۔ آپ نے اُسے سلاست‘ سادگی اوراستدلالیت میں تبدیل کیا اور اردو ادب کو فطری طرزِ تحریر سے مہکا دیا۔ آج سرسیّد ہی کی بدولت اردو ایک مشہور و معروف زبان ہے اور ہم فخر سے اردو کو اپنی قومی زبان تسلیم کرتے ہیں۔ حالی نے شاید ٹھیک ہی کہا تھا
ترے احسان رہ رہ کر سدا یاد آئیں گے اُن کو
کریں گے ذکر ہر مجلس میں اور دہرائینگے اُن کو
Fahim Patel

By Fahim Patel

- See more at: http://www.guesspapers.net/5905/%D8%B3%D8%B1-%D8%B3%DB%8C%D8%AF-%D8%A7%D8%AD%D9%85%D8%AF-%D8%AE%D8%A7%D9%86/#sthash.S9KZhSL1.dpuf

Thursday, 21 August 2014

کنایہ

         کنایہ: علم بیان کی رو سے یہ وہ کلمہ ہے، جس کے معنی مبہم اور پوشیدہ ہوں اور ان کا سمجھنا کسی قرینے کا محتاج ہو، وہ اپنے حقیقی معنوں کی بجائے مجازی معنوں میں اس طرح استعمال ہوا ہو کہ اس کے حقیقی معنی بھی مراد لیے جا سکتے ہوں۔ یعنی بولنے والا ایک لفظ بول کر اس کے مجازی معنوں کی طرف اشارہ کر دے گا، لیکن اس کے حقیقی معنیٰ مراد لینا بھی غلط نہ ہو گا۔ مثلاً ’’بال سفید ہو گئے لیکن عادتیں نہ بدلیں۔ ‘‘
یہاں مجازی معنوں میں بال سفید ہونے سے مراد بڑھاپا ہے لیکن حقیقی معنوں میں بال سفید ہونا بھی درست ہے۔
        بقول سجادمرزابیگ:
        ’’ کنایہ لغت میں پوشیدہ بات کرنے کو کہتے ہیں اور اصطلاح علم بیان میں ایسے کلمے کو کہتے ہیں جس کے لازمی معنی مراد ہوں اور اگر حقیقی معنی مراد لیے جائیں تو بھی جائز ہو
سرپہ چڑھنا تجھے پھبتا ہے پر اے  طرف کلاہ
مجھ  کو  ڈر ہے کہ  نہ  چھینے  ترا  لمبر  سہرا
سرپہ چڑھنا سے مراد گستاخ ہونا، اپنے تئیں دور کھینچنا مراد ہے اور حقیقی معنی یعنی ٹوپی سرپررکھنا مراد ہوسکتے ہیں۔ ‘‘[۱۴]
        علم بیان کی بحث میں تشبیہ ابتدائی صورت ہے اور استعارہ اس کی بلیغ تر صورت ہے۔ اس کے بعد استعارہ اور مجاز مرسل میں بھی فرق ہے۔ استعارہ اور مجاز مرسل، دونوں میں لفظ اگرچہ اپنے مجازی معنوں میں استعمال ہوتا ہے، لیکن استعارہ مکمل مجاز ہوتا ہے اور اس میں لفظ کے حقیقی اور مجازی معنوں میں تشبیہ کا تعلق ہوتا ہے۔ جب کہ مجاز مرسل میں لفظ کے حقیقی اور مجازی معنوں میں تشبیہ کا تعلق نہیں ہوتا۔ اسی طرح مجاز مرسل اور کنایہ میں بھی فرق ہے، کنایہ میں لفظ کے حقیقی و مجازی معنی دونوں مراد لیے جا سکتے ہیں جب کہ مجاز مرسل میں حقیقی معنیٰ  مراد نہیں لیے جاتے، بلکہ مجازی معنیٰ ہی مراد لیے جائیں گے۔
        کنایہ کی ایک مثال مشہور عرب شاعرہ حضرت خنساؓ کے قصیدہ کا یہ شعر ہے جواس نے اپنے بھائی کے لیے کہا تھا:
طَوِیلُ النَجَادِ رَفِیعُ العِمَاد َکثیرُ الرَمَادِ  اِذَا مَا شَتَا
         ’’ان کی تلوار کا نیام طویل تھا، ان کےستون اونچے تھے، اور سردی کے موسم میں ان کے ہاں راکھ بہت ہوتی تھی۔ ‘‘
        طویل النجاد حقیقی اور مجازی دونوں معنی میں درست ہے۔ ان کی تلوار کا نیام حقیقت میں بھی طویل ہوسکتا ہے اور یہ ان کی بہادری اور لمبے قد کی طرف اشارہ بھی ہوسکتا ہے۔ اسی طرح رفیع العماد کا مطلب ان کے گھر کے بلند ستون بھی ہوسکتے ہیں اور قبیلے میں ان کا بلند مقام بھی مراد لیا جا سکتا ہے۔ اور کثیر الرماد  یعنی چولہے میں بہت زیادہ راکھ ہونے کا بیان ان کی سخاوت کی طرف اشارہ بھی ہوسکتا ہے کہ ان کے ہاں غریبوں کے لیے بہت زیادہ کھانا پکتا تھا اور اس کے حقیقی معنی بھی مراد لیے جا سکتے ہیں۔

کنایہ کی اقسام
۱۔ کنایہ قریب
         کنایہ کوئی ایسی صفت ہو جو کسی خاص شخصیت کی طرف منسوب ہو اور اس صفت کو بیان کر کے اس سے موصوف کی ذات مراد لی گئی ہو۔ مثلاً عزیز لکھنوی کے بقول:
دعوے تو تھے بڑے ارنی گوئے طور کو
ہوش اڑ گئے ہیں ایک  سنہری لکیرسے
        اس شعر میں ’ارنی گوئے طور ‘سے حضرت موسیٰ علیہ السلام مراد ہیں۔ کنایہ کی اس قسم سے توجہ فوراً ہی موصوف کی طرف مبذول ہو جاتی ہے۔
۲۔ کنایہ بعید
        کنائے کی اس قسم میں بہت ساری صفتیں کسی ایک موصوف کے لیے مخصوص ہوتی ہیں اور ان کے بیان سے موصوف مراد ہوتا ہے۔ لیکن وہ ساری صفتیں الگ الگ اور چیزوں میں بھی پائی جاتی ہیں۔ اس کو کنایہ بعید اور خاصہ مرکبہ بھی کہا جاتا ہے۔ مثلاً:
ساقی وہ دے ہمیں کہ ہوں جس کے سبب بہم
محفل  میں آب و آتش و خورشید  ایک جا [۱۵]
        آب و آتش و خورشید کے جمع ہونے کی صفت شراب میں پائی جاتی ہے اور یہ صفات الگ الگ بھی موجود ہوسکتی ہیں۔
۳۔ کنایہ سے صرف صفت مطلوب ہو
زندگی کی  کیا  رہی  باقی  امید
ہو گئے موئے سیاہ موئے سفید
        اس شعر میں موئے سیاہ سے جوانی مراد لی گئی ہے اور موئے سفید بڑھاپے کی طرف اشارہ کر رہے ہیں۔
۴۔ کنایہ سے کسی امر کا اثبات یا نفی مراد ہو
        مثلاً یہ جملہ: زید و عمر دونوں ایک سانچے میں ڈھلے ہوئے ہیں۔ یعنی دونوں اپنی شکل و صورت یا عادات و خصائل میں ایک جیسے ہیں۔
۵۔ تعریض
        لغت میں تعریض کے معنی ’چوڑا کرنا، وسیع کرنا، بڑا کرنا، مخالفت کرنا، مزاحمت کرنا، کنایہ سے بات کہنا، اشارہ سے کوئی بات جتانا، کسی معاملے کو مشکل بنا دینا ‘وغیرہ ہیں۔ اصطلاح میں تعریض کنائے کی اس قسم کو کہتے ہیں جس میں موصوف کا ذکر نہیں کیا جاتا۔ مثلاً اگر کوئی بادشاہ رعایا پر ظلم کر رہا  ہو تو یہ کہا جائے کہ بادشاہی اس کو زیبا ہے جو رعیت کو آرام سے رکھے۔ یعنی وہ بادشاہی کے لائق نہیں ہے۔ تعریض کو بالعموم کسی پر تنقید کرنے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ یعنی کوئی شخص کسی پر تنقید کرنا چاہتا ہے اور واضح طور پر اس کا نام بھی نہیں لینا چاہتا۔ اس میں کسی حد تک طنز کا مفہوم بھی پیدا ہو جاتا ہے۔ مثلاً داغ دہلوی کا شعر ہے:
ہمی بدنام ہیں جھوٹے بھی ہمی ہیں بے شک
ہم  ستم کرتے ہیں اور آپ کرم کرتے  ہیں
        اس شعر میں داغ نے طنز کی صورت میں اس حقیقت کو بیان کیا ہے کہ آپ ہی دراصل جھوٹے ہیں اور ہم پر ستم کرتے ہیں۔
        کنائے کی اس قسم کی مثال قرآن مجید کی اس آیت میں بھی موجودہے۔ ارشاد ہے:
إِنَّ الَّذِينَ يَكْفُرُونَ بِآيَاتِ اللَّهِ وَيَقْتُلُونَ النَّبِيِّينَ بِغَيْرِ حَقٍّ وَيَقْتُلُونَ الَّذِينَ يَأْمُرُونَ بِالْقِسْطِ مِنَ النَّاسِ فَبَشِّرْهُمْ بِعَذَابٍ أَلِيمٍ۔ (آل عمران۲۱:۳)
’’ جو لوگ اللہ کے احکام و ہدایات کو ماننے سے انکار کرتے ہیں اور اس کے پیغمبروں کو ناحق قتل کرتے ہیں اور ایسے لوگوں کی جان کے درپے ہو جاتے ہیں، جو خلق خدا میں عدل و راستی کا حکم دینے کے لیے اٹھیں، ان کو درد ناک سزا کی خوش خبری سنا دو۔ ‘‘
        یہاں لفظ فَبَشِّرْهُمْ  میں تعریض ہے۔ اس کا معنی’’  خو ش خبری سنا دو‘‘ ہے۔ جبکہ جہنم کا عذاب درحقیقت خو ش خبری نہیں، بلکہ بری خبر ہے، مگر اسے بطور تعریض خوش خبری کہا گیا ہے۔

۶۔ تلویح
        لغت میں تلویح کے معنی’ زرد بنانا، گرم کرنا، کپڑوں کو چمکدار بنانا، تلوار کو صیقل کرنا، اشارہ یا کنایہ کرنا ہیں۔ اصطلاح میں کنائے کی ایسی قسم جس میں لازم سے ملزوم تک بہت سارے واسطے ہوں تلویح کہلاتی ہے۔ اس کی مثال سودا کا یہ شعر ہے:
الغرض مطبخ اس گھرانے کا
رشک ہے آبدار خانے کا
        یہاں مطبخ کا رشک آبدار خانہ ہونا کنایہ ہے نہایت بخل سے۔ کیونکہ آبدار خانہ ہونے کو آگ کا نہ جلنا لازم ہے اور آگ کے نہ جلنے کو لازم ہے کھانے کا نہ پکنا اور کھانا نہ پکنے کو یہ بات لازم ہے کہ صاحب مطبخ نہ خود کچھ کھاتا ہے اور نہ دوسروں کو کچھ کھلاتا ہے اور اس سے بخل ثابت ہوتا ہے۔ ۱۶۱]
۷۔ رمز
        اردو لغت میں رمز کے معنی ’آنکھوں ‘ بھنوؤں وغیرہ کا اشارہ، ذومعنی بات، پہلو دار بات، مخفی بات، طعنہ دینا، اشارہ آنکھ منہ ابرو وغیرہ سےنوک جھونک، مخفی یا پوشیدہ بات‘ وغیرہ ہیں۔ ادبی اصطلاح میں رمز کنائے کی وہ قسم ہے جس میں زیادہ واسطے نہ ہوں، لیکن تھوڑی بہت پوشیدگی موجود ہو۔ مثلاً یہ شعر رمز کی ایک عمدہ مثال ہے:
سیاہی منہ کی گئی، دل  کی آرزو نہ گئی
ہمارے جامہ کہنہ سے مئے کی بو نہ گئی
        اس میں جامہ کہنہ سے شراب کی بو کا نہ جانا کنایہ ہے اس سے کہ بڑھاپے تک میخواری کرتے رہے۔
۸۔ ایما و اشارہ
        اگر کنائے میں واسطوں کی کثرت بھی نہ ہو اور کچھ پوشیدگی بھی نہ ہو تو اس کو ایما و اشارہ کہتے ہیں۔ جیسے سفید داڑھی والاسے بوڑھا آدمی مراد لیا جاتا ہے۔ اسی طرح میر کا یہ شعر ایما و اشارہ کی عمدہ مثال ہے:
شرکت شیخ و برہمن سے میر
اپنا کعبہ جدا بنائیں گے ہم
        اپنا کعبہ جدا بنانا، سب سے علیحدہ رہنے کی طرف اشارہ ہے۔
٭٭٭

شاہ عبداللطیف بھٹائیؒ ................
شاہ عبداللطیف بھٹائیؒ 1689 میں حیدر آباد ضلع، ہالہ تحصیل کی ہالہ حویلی میں پیدا ہوئے۔ آپؒ کے والد کا نام سید حبیب اللہ تھا، شاہ حبیب ہالا کو خیرآباد کہہ کر کوٹری میں آکر مقیم ہوئے، ہالا حویلی بھٹ سے نو کوس (ایک کوس تین ہزار گز یعنی 2743.2میٹر کے برابر ہوتا ہے) اور کوٹری سے چار میل دور ہے۔ شاہ کے زمانے میں عربی اور فارسی زبان و ادب کو مقبولیت حاصل تھی، ان حالات میں انھوں نے سندھی زبان میں شاعری کرکے نہ صرف سندھی زبان کو شاعرانہ معیار بخشا بلکہ وطن اور سندھ سے عقیدت کا ثبوت فراہم کیا۔
اپنی شاعری میں شاہ صاحب نے قرآن و حدیث سے اصطلاحیں ضرور استعمال کیں مگر اپنی مادری زبان میں ترجمہ کیا۔ صوفیانہ تخیل شاہ کے کلام کی خصوصیات ہیں، ان کی شاعری میں سادگی اور بے لوث خلوص شامل ہے۔ وادی مہران کے عظیم المرتبت شاعر شاہ عبداللطیف بھٹائی کی شاعری پڑھنے کے بعد ہمیں اس بات کا اندازہ اچھی طرح ہوجاتا ہے کہ ان کا مکمل کلام انسانیت کے گرد گھومتا ہے۔ آپ بے حد متقی اور پرہیز گار تھے، دنیاوی آلائشوں سے آپ کا دور کا بھی واسطہ نہ تھا، ساری عمر عبادت و ریاضت میں گزری ان کی شاعری اس بات کا بین ثبوت ہے کہ انھوں نے جہالت کے چراغوں کو گل کرنے اور اخلاقیات کا بہترین درس دیا ہے۔ شاہ عبداللطیف بھٹائی کا قابل قدر کارنامہ ’’شاہ جو رسالو‘‘ ہے۔
روایت ہے کہ شاہ صاحب کی وفات کے بعد ان کے بڑے خلیفہ ثمر فقیر نے عقیدت کے ساتھ اس شعری ذخیرے کو قلمبند کروایا جو بہت سے مریدوں اور ان کے چاہنے والوں کے دل و دماغ میں محفوظ تھا۔ بھٹ شاہ میں یہ تبرک یادگار کے طور پر آج بھی محفوظ ہے۔ شاہ بھٹائی کا پیغام بذریعہ شاعری جذبہ محبت، علم و دانش اور حسن و راستی کا آئینہ دار ہے یا یوں کہنا چاہیے کہ ’’شاہ جو رسالو‘‘ میں سندھ کی منظوم تاریخ رقم کی گئی ہے۔ وہ تصوف کے بڑے شاعر تھے انھوں نے تمثیل کے انداز میں حقائق پر روشنی ڈالی ہے۔ انھوں نے جو بھی کردار پیش کیے ہیں وہ سرزمین سندھ کے ہیں۔ شاہ صاحب نے ایرانی طرز فکر کو ترک کرکے خالصتاً سندھی شاعری کے انداز میں عارفانہ فکر کی تائید کی ہے۔
شاہ عبداللطیف بھٹائی ’’سماع‘‘ کے بے حد شوقین تھے۔ ہندوستان کی گائیکی سے پوری طرح واقف تھے۔ گائیکی کے سروں کے آپ نے مختلف نام رکھے تھے، یہ سُر (آواز) داستانوں میں بٹے ہوئے ہیں، اور ہر داستان کے پیچھے ’’وائی‘‘ ہے جوکہ عبداللطیف کی اپنی ایجاد ہے، اس کی ہیئت غزل سے ملتی جلتی ہے۔ ’’سُر حسینی‘‘ میں سسّی کی دردناک صدائیں سنائی دیتی ہیں، اسی طرح شاہ صاحب نے ماروی کو دیس کی محبت کی علامت کے طور پر نمایاں کیا ہے۔
شاہ صاحب اپنے اشعار میں اس طرح انسانوں سے مخاطب ہیں کہ ’’لوگوں سے زیادہ پرندوں میں پہچان ہے کہ وہ جھنڈ بناکر آپس میں بیٹھتے ہیں، مگر انسان، انسان سے دور بھاگتا ہے‘‘ وہ کہتے ہیں کہ ’’آخر سب فنا ہے، انسان کو کس بات پر غرور ہے؟ جب کہ بڑے بڑے عظمت و مرتبے والے لوگ خاک میں مل گئے، ہم جس پر چل رہے ہیں اسی زمین کے نیچے بے شمار انسان دفن ہیں، انسان کا کام ہے کہ وہ بیدار رہے، کھلی آنکھوں سے دیکھے اور حقیقت کو پہچانے، اور تعریف اﷲ ہی کے لیے ہے جو دونوں جہانوں کا سردار ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں۔‘‘
شاہ عبداللطیف کی شادی کا احوال بھی حیرت انگیز اور دلچسپ ہے۔ یہ ان دنوں کا ذکر ہے جب شاہ حبیب کوٹری میں رہائش پذیر ہوئے۔ کوٹری میں مرزا مغل بیگ ارغوان کا ایک باعزت خاندان سکونت پذیر تھا، وہ شاہ حبیب کی پاکبازی و تقویٰ سے بے حد متاثر ہوا اور اپنے خاندان کے ساتھ شاہ کے مریدوں میں شامل ہوگیا، جب کبھی مرزا کے گھر میں دکھ، بیماری ہوتی تو شاہ حبیب کو ہی دعا کے لیے کہا جاتا۔ ایک مرتبہ یوں ہوا کہ مرزا مغل بیگ کی بیٹی بیمار ہوگئی۔ جب شاہ کو بلایا گیا تو وہ بوجہ علالت خود نہ جاسکے اپنے نوعمر بیٹے کو ملازم کے ساتھ بھیج دیا۔ نوجوان شاہ لطیف نے مرزا مغل بیگ کی نوعمر بیٹی کو دیکھا جو بے حد حسین وجمیل تھی۔
دونوں کی نگاہیں بیک وقت ایک دوسرے کی طرف اٹھیں تو دونوں کے دلوں کو محبت کی آگ گرماگئی۔ اس بات کا اندازہ مرزا کو اچھی طرح ہوگیا، بیٹی کی حالت بھی چھپی نہ رہ سکی کہ عشق اور مشک چھپائے نہیں چھپتے۔ مرزا نے انھی حالات کے پیش نظر شاہ حبیب سے ترک تعلق کرلیا، شاہ حبیب کو بھی جب صورت حال کا علم ہوا تو انھوں نے بھی دلبرداشتہ ہوکر کوٹری کو چھوڑ دیا۔ اس حادثے نے شاہ عبداللطیف کو گھر بار چھوڑنے پر مجبور کردیا۔ مشہور ہے کہ جب آپ گھومتے پھرتے ٹھٹھہ پہنچے تو وہاں کے عالم مخدوم علامہ محمد معین جو حضرت شاہ ابوالقاسم نقشبندی کے خلیفہ تھے ان سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے بے حد محبت کے ساتھ کہا کہ وہ اپنے سلوک سے دکھے دل کو تسکین پہنچائیں۔
ایسی ہی خدمت کے جذبے نے شاہ عبداللطیف کو والدین کے در دولت پر پہنچادیا۔ ان کے اس عمل سے شاہ لطیف کے والد بے حد خوش ہوئے، شاہ کی واپسی کے بعد ایک واقعہ کچھ اس طرح پیش آیا کہ جس کی بدولت شاہ لطیف کے ہاتھ میں گوہر مراد آگیا۔ ہوا یوں کہ ’’دل‘‘ قوم کے سرکش افراد نے مرزا مغل بیگ کی حویلی پر حملہ کیا۔ یہ واقعہ 1713 کا ہے۔ مرزا مغل کے خاندان کے تمام مرد قتل کردیے گئے، صرف ایک نو عمر لڑکا اور خواتین بچ سکیں، اس قتل و غارت میں مغل خواتین کو سخت مصائب کا سامنا کرنا پڑا اور انھیں اس بات کا وہم ہوگیا کہ ان کی تباہی سید خاندان کی ناراضگی کا سبب ہے۔
لہٰذا سب لوگ شاہ صاحب کی خدمت میں حاضر ہوئے، معافی مانگی، سرپرستی فرمانے کی درخواست بھی کی اور اپنی صاحبزادی کا نکاح شاہ عبداللطیف بھٹائی سے کرنے کی نوید سنائی۔ صاحبزادی کا نام سیدہ تھا اور یہ وہی لڑکی تھی جس کے علاج کے لیے شاہ صاحب گئے تھے اور ان ہی کی خاطر جنگلوں کی خاک چھانی۔ اس طرح شاہ عبداللطیف کا عقد اس لڑکی سے کردیا گیا۔
شادی کے بعد شاہ کے مریدوں نے آپ کو تاج المخدورات کا لقب دیا۔ اس خوشگوار واقعے کے بعد شاہ لطیف نے ایک پرفضا مقام کو اپنے رہنے کے لیے منتخب کیا، اسے بھٹ شاہ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ اس جگہ اونچے اونچے ٹیلے تھے شاہ صاحب کی کوشش نے اسے ایک خوبصورت بستی میں تبدیل کردیا۔
شاہ صاحب اسی بھٹ میں تھے کہ آپ کو اطلاع ملی کہ ان کے والد صاحب بیمار ہیں وہ ان سے ملنے کے لیے روانہ ہوگئے لیکن ابھی راستے میں ہی تھے کہ شاہ حبیب انتقال کرگئے، والد صاحب کی موت نے آپؒ کو بے حد دلگرفتہ کیا اور کئی دن تک آپ روتے رہے، والد صاحب کے انتقال کے بعد شاہ لطیف 10 سال تک زندہ رہے۔ دور دور سے آکر لوگ آپؒ کی خدمت میں حاضر ہوتے ، آپ کے ہاں سارا وقت سرود و سماع جاری رہتا۔
زندگی کے آخری دنوں میں شاہ صاحب کربلا شریف کی زیارت کے لیے روانہ ہوئے، راستے میں کسی مرید نے کہا کہ آپ ضعیفی کے عالم میں کہاں جارہے ہیں جب کہ بقول آپ کے آپ کا کفن دفن تو بھٹ میں ہوگا، آپ نے ارادہ ترک کردیا۔ 21 دن تک تنہائی میں رہے اس دوران عبداللطیف بھٹائی نے صرف دو وقت کا کھانا تناول فرمایا۔ باہر آکر غسل کیا اور ایک چادر اپنے اوپر ڈال کر مراقبے میں بیٹھ گئے، تیسرے دن جب فقراء شاہ کے نزدیک گئے تو دیکھا کہ آپؒ کی روح پرواز کرچکی تھی۔ شاہ عبداللطیف بھٹائی نے 14 صفر 1165 ہجری بمطابق 1752 عیسوی میں وفات پائی، آپ کی وصیت کے مطابق آپؒ کی بھٹ میں ہی تدفین کی گئی۔


مجازِ مرسل :   مجازِ مرسل میں صرف مجازی معنی لیے جاتے ہیں  حقیقی معنی بالکل چھوڑ دئےے جاتے ہیں  ۔کیونکہ مجازی معنی کے ساتھ حقیقی معنی بھی شامل ہوں  تو وہ کنایہ ہو جاتا ہے ۔مجاز مرسل میں کل کہہ کر جزو مراد لیا جاتا ہے ۔مثلاً میرؔ کا شعر ملاحظہ کیجئے۔

غضب آنکھیں  ستم ابرو عجب منہ کی صفائی ہے
خدا نے اپنے ہاتھوں  سے تیری صورت بنائی ہے
کوئی چیز پورے ہاتھوں  سے نہیں  بنائی جاتی بلکہ اسے بنانے کے لیے انگلیوں  کا استعمال کیا جاتا ہے یعنی یہاں  ہاتھوں  کہہ کر انگلیاں  مراد ہیں ۔
کبھی جزو سے کل بھی مراد لیتے ہیں  جیسے سردار کے لیے سر کا استعمال کریں ۔ مثلاً
آیا جو مے کدہ میں  تو بے دام پی گیا
زاہد بھی سر جھکائے کے کئی جام پی گیا
یہاں  جام پی گیا سے مراد شراب پینے کے ہیں ۔
مجازِ مرسل کی مکمل تعریف یوں  ہے کہ جب حقیقی او رمجازی معنی میں مشابہت کا تعلق ہو تووہ استعارہ کہلائے گا اور جب مشابہت کے علاوہ کوئی دوسرا تعلق ہو گا تو اس کو مجازِ مرسل کہیں  گے ۔
مجازِ مرسل کی کئی قسمیں  ہیں  یعنی ظرف کہہ کر مظروف مراد لیں  جیسے جام کہہ کر شرا ب مرادلی جائے یا مظروف کہہ کر ظرف مراد لیں  مثلاً کہیں  شربت طاق میں  رکھ دو یہاں  مظروف شربت کہہ کر ظرف یعنی شربت کی بوتل مراد لیا گیا ہے کیونکہ شربت طاق میں  نہیں  رکھا جاسکتا ہاں  شربت سے بھری بوتل طاق میں  رکھی جاسکتی ہے

کنایہ : علم بیان کی ایک قسم کنایہ ہے ۔کنایہ کے معنی پوشیدہ بات یا مخفی اشارہ ہے کنایہ اس کو کہتے ہیں  جس سے لازمی معنی بھی مراد ہوں  اور حقیقی معنی بھی مراد لیے جاسکیں  جیسے لمبے قد کا آدی کہہ کر اس سے احمق مراد لیں  مثلاً   ؎

زندگی کی کیا رہے باقی اُمید
ہوگئے موئے سیاہ موئے سفید
اس شعر میں  موئے سفید کہہ کر بڑھاپے کی طرف اشارہ کیا گیا ہے ۔کنایہ سے مقصود کسی کی ذات صفات یا پھر ان کی نفی و اثبات ہوتا ہے ۔کنایہ اور استعارہ میں  یہ فرق ہے کہ جس سے کلام حقیقی اور غیر حقیقی دونوں  معنی مراد لیے جاسکیں  وہ کنایہ کہلائے گا اور اگر اس سے حقیقی معنی مراد نہیں  لیے جاسکیں  تو وہ استعارہ کہلائے گا۔ لیکن اگر کسی کی صفت بیان کریں  اور مراد اس کی ذات ہو تو اس کو کنایہ کہیں  گے مثلاً دریا دل کہہ کر سخی ہونے کی طرف اشارہ کریں  یہاں  صرف صفت کا ذکر ہوا ہے اس سے سخی آدمی ہم نے مراد لیا ہے ۔